تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 461
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1954ء تو اتنے مقام پر پہنچنے کے بعد کتنی شرم کی بات ہے، اگر تم اپنے قدم پیچھے ہٹا لو تم وہ تو نہ کرو، جیسے کہتے ہیں کہ کوئی مغرور شخص تھا، اس کو یہ خیال ہو گیا کہ میں بڑا بہادر ہوں اور بہادری کی علامت اس نے یہ مقرر کی ہوئی تھی کہ وہ خوب چربی لگا لگا کے اپنی مونچھیں موٹی کرتا رہتا تھا۔چنانچہ اس نے خوب مونچھیں یال لیں۔کوئی انچ بھر وہ موٹی ہو گئیں اور پھر اس نے ان کو مروڑ مروڑ کر آنکھوں تک پہنچا دیا۔اور پھر اس نے یہ اصرار کرنا شروع کیا کہ چونکہ مونچھیں بہادری کی علامت ہیں ، اس لئے خبر دار اس علاقہ میں میرے سوا کوئی مونچھ نہ رکھے۔لوگوں میں مونچھیں رکھنے کا عام رواج تھا کیونکہ اس زمانہ میں جنگی کیر کٹ یہ سمجھا جاتا تھا کہ مونچھیں چڑھائی ہوئی ہوں۔مگر اس نے جس کی مونچھ دیکھنی پکڑ لینی اور قیچی سے کاٹ ڈالنی اور کہنا، خبر دار آئندہ جو یہ حرکت کی ، میرے مقابلے میں کوئی شخص مونچھیں نہیں رکھ سکتا۔سارے علاقے میں شور پڑ گیا۔آخر لوگوں نے کہا، ذلیل کیوں ہونا ہے؟ مونچھیں کٹوا ڈالو، ورنہ اس نے تو زبردستی کاٹ ڈالنی ہیں۔کئی بے چاروں نے گاؤں چھوڑ کر بھاگ جانا اور کسی نے چپ کر کے نائی سے کٹوا دینی۔نہیں کٹوانی تو اس نے جاتے ہی بازار میں مونچھ پکڑ لینی اور قیچی مارنی اور کاٹ ڈالتی۔اس سے لوگوں کی بڑی ذلتیں ہوئیں۔آخر ایک شخص کوئی عقلمند تھا، یوں تھا غریب سا۔اس نے جو دیکھا کہ روز روز یہ مذاق ہو رہا ہے اور اس طرح لوگوں کی ذلت ہوتی ہے تو اس نے کیا کیا کہ وہ بھی گھر میں بیٹھ گیا اور اس نے مونچھیں بڑھانی شروع کر دیں۔یہاں تک کہ اس نے اس سے بھی زیادہ بڑی مونچھیں بنالیں۔جب مونچھیں خوب ہو گئیں تو آکر بازار میں ٹہلنے لگ گیا اور ایک تلوار لٹکالی۔حالانکہ تلوار چلانی بیچارے کو آتی ہی نہیں تھی۔اب اس پٹھان کو لوگوں نے اطلاع دی کہ خان صاحب چلئے کوئی مونچھوں والا شخص آ گیا ہے۔کہنے لگا، کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا، فلاں بازار میں ہے۔خیر دوڑے دوڑے وہاں آئے ، دیکھا تو بڑے جوش سے کہا تم کو پتہ نہیں، مونچھیں رکھنا صرف بہادر کا کام ہے اور میرے مقابل میں کوئی مونچھیں نہیں رکھ سکتا۔وہ کہنے لگا ، جاؤ جاؤ بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔تم سمجھتے ہو تم ہی بڑے بہادر ہو، میں تم سے بھی زیادہ بہادر ہوں۔اس نے کہا، پھر یہ تو تلوار کے ساتھ فیصلہ ہوگا۔وہ کہنے لگا اور کس کے ساتھ ہو گا ؟ بہادروں کا فیصلہ ہوتا ہی تلوار کے ساتھ ہے۔اس نے کہا، پھر نکالو تلوار۔چنانچہ اس نے بھی تلوار نکال لی۔حالانکہ اس بے چارے کو تلوار چلانی ہی نہیں آتی تھی۔جب وہ تلوار نکال کر کھڑا ہو گیا تو یہ کہنے لگا، دیکھو، بھٹی خان صاحب ایک بات ہے اور یہ کہ میرا اور آپ کا فیصلہ ہونا ہے کہ ہم میں سے کون بہادر ہے؟ لیکن ہمارے بیوی بچوں کا تو کوئی قصور نہیں۔فرض کرو، میں مارا جاؤں تو میری بیوی کا کیا قصور ہے کہ بیچاری بیوہ بنے اور میرے بچے یتیم 461