تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 439

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 ستمبر 1954ء دوسری نیکی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔جس کام سے نیکی کی توفیق نہ ملے ، اس کے متعلق یہ سمجھ لو کہ وہ در حقیقت نیک کام نہیں تھا۔اس طرح ہر وہ کام جو بظاہر سی معلوم نہ ہو ، اگر اس سے کسی نیکی کی توفیق مل جائے تو وہ بھی ثواب کا موجب ہوتا ہے۔پس میں جماعت کے احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور زیادہ سے زیادہ وعدے لکھا ئیں اور پھر انہیں جلد پورا کریں۔اسی طرح نئے نئے لوگوں کو تحریک کر کے اس تحریک میں شامل کریں۔تمہارا چندہ ہر سال پہلے سے زیادہ ہونا چاہئے، کیونکہ تمہارا کام ہر سال بڑھے گا۔جیسے 6،5 سال کے لڑکے کا لباس بڑی عمر والے آدمی کو پورا نہیں آتا، اسی طرح تمہاری اس سال کی قربانی اگلے سال کام نہیں آسکتی۔اللہ تعالیٰ تمہیں بڑھا رہا ہے، جس طرح ایک بچہ بڑھتا جاتا ہے اور اس کے اختیار میں نہیں ہوتا کہ وہ بڑھنے کو روک سکے، اسی طرح تم پر بھی وہ دور آیا ہوا ہے۔قانون قدرت تمہیں بڑھا رہا ہے۔پس تمہاری آج کی قربانی کل کے کام نہیں آئے گی، کیونکہ تمہارا قدم لازماً آگے بڑھے گا اور تمہیں اپنی قربانی بھی لازماً بڑھانی پڑے گی۔اگر تم اپنی قربانی بڑھاتے نہیں تو تمہاری حالت مضحکہ خیز بن جائے گی۔اگر چھ سال کے بچے کا لباس بڑی عمر والا پہن لے تو کیا تم اس پر ہنسو گے یا نہیں؟ اگر تم یہ دیکھو کہ 18 سال کا نوجوان، جو کرکٹ کا کھلاڑی ہے، وہ چوسنی منہ میں لئے پھر رہا ہے تو تم اس پر ہنسو گے یا نہیں ؟ اگر تم دیکھ لو کہ ایک ٹیم کا کپتان جھنجھنا ہلانا شروع کر دیتا ہے تو تم اس پر ہنسو گے یا نہیں؟ اگر تم کسی استاد کو دیکھو کہ وہ گڑیا اٹھائے پھرتا ہے تو تم اس پر ہنسو گے یا نہیں ؟ اسی طرح اگر تمہیں دنیا دیکھے گی کہ تمہارا کام خدا تعالٰی نے بڑھا دیا ہے، لیکن قربانی تمہاری کل والی ہے تو وہ تم پر ہنسے گی یا نہیں ؟ تم اپنی حالت پر قیاس کرلو کہ تم دوسروں کو بے جوڑ لباس پہنے دیکھ کر ان کے متعلق کیا خیال کرتے ہو؟ پھر تمہارے متعلق دوسرے لوگ کیا خیال کریں گے؟ خدا تعالیٰ تمہارے متعلق کیا خیال کرے گا ؟ کیا تم دونوں کی نظروں میں بے جوڑ نہیں بن جاتے ؟ اور پھر یہ زمانہ تو تمہارے بڑھنے اور ترقی کرنے کا ہے۔جسمانی طور پر اگر جوانی کا زمانہ آتا ہے تو لازماً اس کے بعد بڑھا پا آتا ہے۔لیکن روحانی طور پر یہ زمانہ تمہارے لئے اس قدر مبارک ہے کہ اگر تم یہ دعائیں کرتے رہو کہ تم بوڑھے نہ ہو تو تمہارا جوانی کا زمانہ ہمیشہ قائم رہے گا۔اگر جسمانی طور پر کوئی یہ کہے کہ میں جوان ہی رہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ بوڑھا نہ ہو اور جوانی کی عمر میں ہی مرجائے۔لیکن اگر کسی قوم کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ ہمیشہ جوان رہے تو اگر وہ کوئی کمزوری نہ دکھائے تو وہ فی الواقع جوان ہی رہتی ہے۔لیکن انسانی زندگی کے متعلق یہ کہنا کہ کوئی جوان ہی رہے ، بددعا بن جاتی ہے۔439