تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 440
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ایک دفعہ اسی قسم کا ذکر چھڑ گیا تو میں نے بتایا کہ بلغاریہ کے لوگ بڑے تنومند اور مضبوط جسم والے ہوتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ وہ ایک قسم کی دہی تیار کرتے ہیں، اس دہی کا وہ کثرت سے استعمال کرتے ہیں، اس لئے وہ بڑے تنومند اور مضبوط ہوتے ہیں۔پاس ہی ایک زمیندار دوست تھا، وہ بڑا خوش ہوا اور کہنے لگا، میرا بھی یہ تجربہ ہے کہ جو شخص التزاماً دہی استعمال کرے، وہ بوڑھا نہیں مرتا۔اس پر دوسرے لوگوں نے اس سے مذاق کرنا شروع کر دیا کہ تمہارا یہ فقرہ کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ دہی کھانے والے جوانی کی عمر میں ہی مر جاتے ہیں، بوڑھا ہونے کی نوبت ہی نہیں آتی۔پس جسمانی زندگی میں ایک جوان کا بوڑھا ہونا ضروری ہے لیکن روحانی زندگی میں ضروری نہیں کہ کوئی قوم بوڑھی ہو۔اگر کوئی قوم قربانی کرے اور اپنا معاملہ خدا تعالیٰ سے درست رکھے تو اس پر ہمیشہ جوانی کی عمر رہتی ہے، بڑھاپا محض اس کی کمزوری کی وجہ سے آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اِنَّ اللهَ لا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ۔کہ ہم جسمانی بڑھاپا تو ضرور لاتے ہیں لیکن روحانی بڑھا پا کسی قوم پر صرف اس وقت لاتے ہیں، جب وہ خود بڑھا پا چاہتی ہے۔پس روحانی جوانی کو تم سینکڑوں، لاکھوں بلکہ کروڑوں سال تک بھی قائم رکھ سکتے ہو اور اس کا نمونہ موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اگلے جہان میں جو جنت ملے گی ، اس میں کوئی بوڑھا نہیں ہوگا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قوم جوان رہنا چاہتی ہے تو اس پر بڑھا پا نہیں آتا۔یا اگر تم جوان رہنا چاہتے ہو تو تمہیں ہر روز اپنی قربانی بڑھانی پڑے گی۔اگر تمہیں ایسا کرتے ہوئے ، بشاشت محسوس نہیں ہوتی تو تم خدا تعالیٰ کی خاطر بناوٹ کے طور پر ہی اپنی قربانی کو بڑھاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو اگلے سال تمہیں بچے دل سے خدا کی خاطر قربانی کرنے کی توفیق مل جائے گی۔اللہ تعالیٰ تمہیں تو فیق دے کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو مجھو۔تا اس ترقی کے ساتھ ساتھ، جوخدا تعالیٰ تمہیں دے رہا ہے، تم خدا تعالیٰ اور دنیا کی نظروں میں فیل نہ ہو۔تمہاری قربانی ہر روز بڑھتی چلی جائے۔تا کہ تم اپنی ذمہ داریوں کی گاڑی کو برابر کھینچ سکوں۔مطبوعه روزنامه الفضل 11 دسمبر 1954 ء) 440