تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 438
خطبہ جمعہ فرموده 03 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم کے لئے آجائیں، اس موقع پر مشرکین مکہ قریب کی پہاڑیوں پر چلے جائیں گے۔چنانچہ اگلے سال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سمیت عمرہ کے لئے آئے۔وہ موسم ملیریا کا تھا۔مدینہ سے مکہ آتے ہوئے راستہ میں ملیریا کا علاقہ تھا۔اسلامی لشکر اس علاقہ سے گزرا تو اس کی اکثریت ملیریا کی وجہ سے بیمار ہو گئی۔ملیریا نے مسلمانوں کی ہڈیوں کو کھوکھلا کر دیا۔ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ملیریا کی وجہ سے ہماری کمریں کبڑی ہوگئی تھیں، ہم اپنی کمریں سیدھی نہیں کر سکتے تھے۔جب ہم طواف کرنے لگے تو مشرکین مکہ جبل ابو القبیس پر چلے گئے تھے اور وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کی حالت کو دیکھ رہے تھے۔یہ لوگ مسلمانوں کے رشتہ دار تھے ، معاہدہ کی وجہ سے وہ قریب آکر تو مل نہیں سکتے تھے۔انہوں نے سمجھا کہ چلو دور سے ہی ان کی شکلوں کو دیکھ لیا جائے۔ادھر مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ ملیریا کی وجہ سے ان کی کمریں کبڑی ہو چکی تھیں اور ان کے قدم ڈگمگارہے تھے۔وہ صحابی کہتے ہیں ، میں طواف کرتے ہوئے کبڑا ہو کر چلتا تھا۔لیکن جو نہی جبل ابو تنیس کے سامنے آتا تھا، اپنی کمر سیدھی کر لیتا اور اکڑ کر چلنے لگتا ، جب اس جگہ سے ہٹ جاتا تو پھر کبڑا ہو کر چلنے لگتا۔جب میں نے طواف ختم کر لیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میرا نام لے کر پوچھا تم یہ کیا کر رہے تھے تم جو نہی جبل ابو القبیس کے سامنے آتے تھے، اکڑ کر چلنے لگتے تھے؟ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ملیریا نے ہماری ہڈیاں کھوکھلی کر دی ہیں، ہم سے سیدھی کمر کر کے چلا نہیں جاتا۔کافر ہماری حالت دیکھ رہے تھے۔میں نے خیال کیا کہ اگر میں نے طواف کرتے ہوئے کوئی کمزوری دکھلائی تو کافر خیال کریں گے کہ ملیریا کی وجہ سے مسلمانوں کی طاقت زائل ہو چکی ہے اور اب وہ ہمارا شکار ہیں۔چنانچہ جب میں ان کے سامنے سے گزرتا تھا تو اپنی کمر سیدھی کر لیتا تھا اور اکڑ کر چلتا تھا اور جب اس جگہ سے ہٹ جاتا تو کبڑا ہوکر چلنے لگتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اکڑ کر چلنا، خدا تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔لیکن اس شخص کا اکڑ کر چلنا، خدا تعالیٰ کو بہت ہی پیارا لگا ہے۔غرض بعض اوقات انسان اپنی کمزوری کی حالت میں بھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا۔اگر تم قربانی کے لحاظ سے کمزور ہو یا مالی لحاظ سے کمزور ہو یا سخاوت کے لحاظ سے کمزور ہو ، تب بھی یہ دیکھ کر کہ اس وقت اسلام اور احمدیت کو تمہاری قربانی کی ضرورت ہے تم بناوٹ کے طور پر اکٹڑ کر چلو۔گوتم دلی طور پر اس قربانی پر نا خوش ہو گے، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہے، اس لئے تمہارا قبض سے قربانی کرنا، جو بظاہر ایک گناہ ہے، تمہارے لئے نیکی سے بھی بڑھ کر ثواب کا موجب ہوگا۔کیونکہ تم اس بات کی بنیا درکھ رہے ہو کہ جو کام آج تم نے قبض سے کیا ہے، آئندہ تم اسے بشاشت سے کرو گے۔کیونکہ ہر نیکی 438