تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 414
خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم کہ ان میں سے بعض کو کئی کئی ماہ تک قید رکھا گیا اور بعض مارے گئے۔اس لئے انڈو نیشین لوگ پاکستانیوں کی طرح احمدیوں سے زیادہ تعصب نہیں رکھتے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تحریک آزادی کے سلسلہ میں جو کام دوسروں نے کیا ، وہی کام انہوں نے بھی کیا ہے۔افریقہ میں بھی تحریک جدید شروع ہونے سے پہلے ہمارا مشن قائم تھا۔لیکن اب وہاں مبلغین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اس وقت وہاں ایک کالج بھی جاری کیا جا چکا ہے اور جماعت کی طرف سے مسلمانوں کا پہلا اور واحد اخبار ٹرتھ نکالا جا رہا ہے۔اب گولڈ کوسٹ سے بھی ایک اخبار جاری کرنے کا ارادہ ہے۔دو گریجوایٹ نوجوان جز لزم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس کے بعد وہ اپنے اپنے علاقہ میں اس کام کو سنبھال لیں گے تا اس کے ذریعہ وہاں کے مسلمانوں کے اندر بھی بیداری پیدا کی جائے۔عجیب بات ہے کہ جہاں پاکستان میں ایک احمد کی، اس علاقہ سے بھی جہاں 40 فیصدی احمدی ووٹ ہیں، جیت نہیں سکتا کیونکہ دوسرے امیدوار اس کے مقابل پر اکٹھے ہو کر ایک کے ساتھ ہو جاتے تھے ، وہاں مغربی افریقہ میں، جہاں پاکستان کی نسبت احمدیوں کی تعداد بہت کم ہے، بعض احمدی مقامی لجسلیٹو اسمبلی کے ممبر منتخب ہو گئے ہیں۔چنانچہ دو احمدی گولڈ کوسٹ کی کونسل میں منتخب ہو گئے ہیں اور ایک احمدی نائیجیریا میں منتخب ہوا ہے۔گویا جہاں پاکستان میں ایک احمدی بھی اسمبلی میں نہیں جاسکتا، وہاں مغربی افریقہ میں ایک ملک میں ایک اور دوسرے ملک میں دو احمدی دوست اسمبلی میں چلے گئے ہیں۔پھر یہاں یہ بات ہے کہ کوئی احمدی پہلے سے اتفاقی طور پر مسلم لیگ میں داخل ہو گیا ہو تو خیر ، ورنہ پوری کوشش کی جاتی ہے کہ کوئی احمدی مسلم لیگ میں داخل نہ ہو۔لیکن وہاں مرکزی کمیٹی میں بھی احمدی شامل ہیں اور جب گورنمنٹ کے پاس کوئی وفد بھیجا جاتاہے تو وہ اکثر کسی نہ کسی احمدی کو اپنا سپوکس میں مقرر کرتے ہیں۔اب گورنمنٹ نے فلیمی لحاظ سے بعض علاقے مختلف انجمنوں کے سپرد کئے ہیں کہ اگر تم کام کرنا چاہتے ہو تو کرو۔ایک علاقہ احمدیوں کے سپر د بھی کیا گیا ہے اور وہاں چھ سکول کھولنے کے سلسلے میں حکومت نے امداد دی ہے اور یہ کہا ہے کہ آئندہ بھی تعلیم کے سلسلہ میں مدددی جایا کرے گی۔اللہ تعالیٰ چاہے اور وہاں جماعتی نظام مکمل ہو جائے تو کچھ عرصہ کے بعد اس میں اور بھی ترقی ہو جائے گی۔کیونکہ وہاں کے مبلغین نے عقل سے کام لیا ہے اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ ملک کے فائدہ کو بھی مدنظر رکھا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ احمدی انگریزوں کے خوشامدی ہیں، اب مغربی افریقہ کے تینوں ممالک میں، جہاں ہمارے مشن قائم ہیں ، انگریزوں کی ہی حکومت ہے، لیکن وہاں قومی تحریک میں احمدی پیش پیش 414