تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 413

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1954ء میں موجودہ جماعت سے بھی کئی گنازیادہ تھی لیکن وہ زیادہ منظم نہیں تھی ، چندہ نہیں دیتی تھی اور اپنا بوجھ خود اٹھانے کے قابل نہیں تھی۔اب چار جگہوں پر ہمارے مشن ہیں اور ان میں پاکستانی مبلغ کام کر رہے ہیں۔پھر کئی جگہوں پر بعض مقامی لوگ تبلیغ کا کام کر رہے ہیں اور ان میں سے بعض لوگ خوب جو شیلے ہیں۔جن کے اخلاص اور جوش کو دیکھ کر طبیعت خوشی اور فرحت محسوس کرتی ہے۔اس وقت تک زیادہ تر لوگ نیگر وز یعنی حبشی اقوام سے احمدی ہوئے ہیں۔لیکن خدا کے نزدیک نیگروز اور وائٹ مین میں کوئی فرق نہیں۔جب اس نے نیگروز بھی پیدا کئے ہیں تو گویاوہ نیگروز کوبھی چاہتا ہے اور وائٹ مین کو بھی چاہتا ہے۔وہ کسی خاص رنگ سے محبت نہیں کرتا۔وہ چاہتا ہے کہ ہر رنگ کے انسان پائے جائیں۔نیگروز بھی ہوں ،سفید رنگ کے بھی ہوں اور درمیانہ رنگ کے بھی ہوں۔اب سفید اقوام سے بھی بعض لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔اگر چہ وہ تعداد میں بہت تھوڑے ہیں۔لیکن بہر حال معلوم ہوتا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی رو چلائی جارہی ہے کہ کوئی تعجب نہیں کہ کچھ عرصہ تک ان اقوام میں بھی احمدیت پھیل جائے۔اب امریکن احمدیوں میں تنظیم پہلے سے زیادہ ہے، وہ چندہ بھی دیتے ہیں، ان کی اپنی اپنی انجمنیں ہیں اور وہ تبلیغ کے سیکر یٹری بھی ہیں۔غرض وہ آہستہ آہستہ اپنا کام سنبھالتے جارہے ہیں۔وہاں لوکل اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں ، مثلاً کرایہ بہت زیادہ ہے۔یہاں اگر ایک اچھا مکان 40 روپے ماہوار کرایہ پرہل جاتا ہے تو وہاں معمولی معمولی مکانات کا کرایہ پانچ پانچ ، چھ چھ سوروپیہ ہے۔اور یہ سب اخراجات وہ خود اٹھاتے ہیں اور یہ ان کی بڑی بھاری قربانی ہوتی ہے۔انڈونیشیا میں بھی ہماری تبلیغ تحریک جدید کے شروع ہونے سے پہلے جاری تھی۔لیکن اس وقت وہاں صرف دو، تین مبلغ تھے، اب ایک درجن کے قریب مرکزی مبلغ وہاں کام کر رہے ہیں۔اسی طرح پہلے وہاں جماعتی چندوں کا حساب نہیں رکھا جاتا تھا۔لوگ چندہ دیتے تھے لیکن نظام کے ماتحت نہیں دیتے تھے۔اب تحریک جدید کے ذریعہ جماعت نظام کے ماتحت آگئی ہے اور اس وقت ان کے چندے تحریک جدید اور عام چندوں کو ملا کر تین لاکھ روپیہ سالانہ کے قریب بن جاتے ہیں۔گوان کا روپیہ پاکستان کے رو پیر کی نسبت بہت کم قیمت کا ہوتا ہے۔پھر وہاں با قاعدہ سالانہ کا نفرنسیں ہوتی ہیں۔اب ان کی توجہ سکول کھولنے کی طرف بھی پھری ہے۔اب یہ تجویز کی گئی ہے کہ وہاں ایک تبلیغی مدرسہ قائم کیا جائے ،جس میں مبلغین تیار کئے جائیں۔ان میں سے جو مبلغین اچھے ہوں، آئندہ صرف وہی یہاں آیا کریں، دوسرے نہ آیا کریں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت بیدار ہے اور پچھلی جنگ میں اس نے تحریک آزادی کے سلسلہ میں بہت عمدہ کام کیا ہے۔ہمارے پاکستانی مبلغین نے بھی مقامی لوگوں کے ساتھ اس حد تک اتحادرکھا 413