تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 408

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 نومبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اپنا سب بو جھ یا اس کا کسی قدر حصہ اٹھانے کے قابل ہو جائے ، سب بوجھ مرکز کو اٹھانا پڑے گا۔جاپان میں لوگوں کو مذہب کی طرف توجہ ہے اور اچھے اچھے لوگوں نے خواہش کی ہے کہ انہیں احمدیت سے روشناس کیا جائے۔لیکن چندہ کم آنے کی وجہ سے ہمیں تو شاید بعض پہلے مشن بھی بند کرنے پڑیں، اس لیے ہم وہاں نیا مشن نہیں کھول سکتے۔اب دیکھو، جاپان کتنا عظیم الشان ملک ہے، اگر ہم وہاں مشن کھول دیں اور خدا کرے، وہاں ہماری جماعت قائم ہو جائے تو احمدیت کی آواز سارے مشرقی ایشیا میں گونجنے لگ جائے گی۔لیکن ہماری موجودہ حیثیت ایسی نہیں کہ ہم کوئی نیا مالی بوجھ برداشت کر سکیں۔پھر آسٹریلیا ہے۔وسعت کے لحاظ سے وہ ہندوستان سے بڑا ہے اور آبادی بڑھ جانے کی وجہ سے اس کی حیثیت بہت بڑھ جائے گی۔وہاں پہلے ایشیائیوں کو نہیں آنے دیتے تھے لیکن اب یہ رو بدل گئی ہے۔وہاں سے ایک نوجوان نے مجھے تحریک کی کہ یہاں کوئی مبلغ بھیجیں۔میں نے اسے جواب دیا کہ اس وقت ہم کوئی نیا مالی بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔یوں اگر ہو سکا تو ہم سروے کے لئے کسی شخص کو بھجوادیں گے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ آسٹریلیا میں کسی ایشیائی کو نہیں آنے دیتے۔اس نوجوان نے جوش میں آکر گورنمنٹ کو خط لکھ دیا کہ ہمیں یہاں مبلغ بھجوانے کی اجازت دی جائے۔اس پر حکومت نے ہمیں چٹھی لکھی کہ کیا آپ یہاں کوئی مبلغ بھیجنا چاہتے ہیں؟ ہم نے جواب دیا کہ موجودہ حالات میں تو ہمارا کوئی ارادہ نہیں کہ آپ کے ملک میں کوئی مبلغ بھیجیں۔لیکن آپ کے ہاں جو مشکلات ہیں، وہ اگر دور ہو جائیں تو شاید ہم کوئی مبلغ بھیج دیں۔اس پر وہاں سے فوراً جواب آگیا کہ آپ بے شک اپنا مبلغ بھیج دیں۔اب ہم چپ کر کے بیٹھے ہیں کیونکہ مزید مالی بوجھ کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔گو یا چندہ کم آنے کی وجہ سے تبلیغ کے جو نئے رستے کھلتے ہیں، ان سے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔غرض ایک طرف تو جماعت میں جو جوش پیدا ہوا تھا، وہ اب ایک حد تک کم ہو گیا ہے۔اور دوسری طرف تحریک جدید کے بیرونی مبلغ اپنا کام لوگوں کے سامنے نہیں لاتے اور اگر وہ کوئی کام لوگوں کے سامنے لائیں بھی تو اس طرح لاتے ہیں کہ سال کی رپورٹ اکٹھی شائع کر دیتے ہیں۔اگر ہر ہفتہ یا پندرہ دن کے بعد لوگوں کے سامنے یہ بات لائی جاتی رہے کہ مثلاً امریکہ اور انگلینڈ کے مشنوں نے یہ کام کیا ہے، وہاں اس قدر لوگ احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں اور پھر وہاں کے بعض واقعات بھی بیان کئے جائیں تو چند دن کے اندر اندر جماعت میں اپنے فرض کو ادا کرنے کا احساس پیدا ہو جائے۔لیکن اس وقت تک جو کچھ ہو رہا ہے، بعض اوقات تو مجھے اس پر ہنسی آتی ہے۔مثلاً " الفضل میں چوہدری خلیل احمد 408