تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 409
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 نومبر 1954ء صاحب ناصر مبلغ امریکہ کا زکوۃ پر مضمون شائع ہو رہا ہے۔اب کوئی ان سے پوچھے کہ تم تو وہاں تبلیغ کے لئے گئے تھے ہم تبلیغ کی بات کرو۔زکوۃ کے متعلق تو تم سے زیادہ بہتر لکھنے والے لوگ یہاں موجود ہیں، تمہیں ایسی مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہیں چاہئے تھا کہ اس قسم کا مضمون لکھتے ، جس سے لوگوں کو وہاں کے تبلیغی حالات سے واقفیت ہوتی یا پھر ز کوۃ کا مضمون شائع کرنا تھا تو امریکہ میں شائع کرتے تا انہیں اسلام کے اس رکن سے واقفیت ہو جاتی۔یہاں کے لوگ تو زکوۃ دیتے بھی ہیں اور اس بارہ میں ان کا علم بھی زیادہ ہے۔پھر الفضل میں اس قسم کے مضامین کا کیا فائدہ؟ پس میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کو تحریک جدید کی طرف توجہ نہیں رہی اور کام کرنے والے بھی جماعت کی توجہ صحیح طور پر اپنے کام کی طرف نہیں کھینچ رہے۔پس چونکہ اس وقت جماعت پر ایک غفلت کی حالت طاری ہے اور اگلے جمعہ میں تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرنے والا ہوں، اس لئے دوستوں کو خصوصیت کے ساتھ اس ہفتہ میں یہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو اس دلدل سے نکالے اور اس کی ترقی میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، ان کو دور کرے۔اگر تمہیں ابھی تک تحریک جدید میں حصہ لینے کی توفیق نہیں ملی تو اللہ تعالی تمہیں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے اور تمہارے دلوں کی گرہیں کھول دے۔اور اگر تمہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں حصہ لینے کی توفیق تو دی ہے لیکن تم نے اپنی حیثیت کے مطابق اس میں حصہ نہیں لیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں بشاشت ایمان عطا فرمائے تا تم اپنی حیثیت کے مطابق اس میں حصہ لے سکو۔اور اگر تم نے اس میں حصہ لیا تھا اور اپنی حیثیت کے مطابق لیا تھا لیکن اپنی کسی شامت اعمال کی وجہ یا کسی مجبوری کی وجہ سے تم اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکے تو اللہ تعالیٰ تمہاری شامت اعمال اور مجبوریاں دور کر دے اور تمہیں اپنا وعدہ پورا کرنے کی توفیق بخشے۔یہ تین چیزیں ہیں، ان کے متعلق تم اس ہفتہ میں دعا کرتے رہو۔تا وقت آنے پر تم بشاشت ایمان، عزم اور ارادہ کے ساتھ تحریک جدید کے جہاد میں حصہ لے سکو۔تم یہ جانتے ہو کہ اسلام کی خدمت کی طرف تمہارے سوا اور کسی کی توجہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ہر کے در کار خود با دین احمد کار نیست یعنی ہر شخص اپنے اپنے کام میں لگا ہوا ہے، اسلام کی خدمت کی طرف کسی کو توجہ نہیں۔اگر تم بھی کارخود کو دین کے کاموں پر ترجیح دو اور انہیں کی طرف سے بے تو جہی اختیار کر لو تو دین کا خانہ بالکل خالی رہ جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت لاکھوں لاکھ غیر احمدی ایسا ہے کہ وہ اسلام کی خدمت کرنی چاہتا ہے۔409