تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 407

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 نومبر 1954ء کھولنے کی درخواستیں آرہی ہیں۔اب ہمارے لئے یہ بڑی مشکل ہے کہ ہم انہیں کہہ دیں کہ چونکہ ہماری جماعت پر بہت زیادہ مالی بوجھ ہے، اس لئے ہم مشن نہیں کھول سکتے۔یہ خیال بالکل غلط ہے کہ اگر جماعت اتنا مالی بوجھ اٹھانے پر تیار ہو جائے تو پھر اس کے اوپر مشنوں کا بوجھ کس طرح اٹھایا جائے گا ؟ کیونکہ جب کوئی جماعت پورے طور پر کسی کام کے لئے تیار ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ خدا تعالی بھی شریک ہو جاتا ہے۔اگر تمہیں خدا تعالیٰ نے انجمن کے 25لاکھ اور تحریک جدید کے 105 کھ چندے کی توفیق دے دی تو پھر یقیناً خدا تعالیٰ وہ جماعت بھیج دے گا، جو انجمن کا چندہ 25 لاکھ کی بجائے 35لاکھ اور تحریک جدید کا چندہ پانچ لاکھ کی بجائے سات ، آٹھ لاکھ ادا کرے گی۔یہ جو میں نے کہا ہے کہ تحریک جدید کا چندہ دولاکھ کے قریب ہوتا ہے، یہ پاکستان اور ہندوستان کا چندہ ہے۔بیرونی چندے ملا کر اب بھی پانچ لاکھ ہو جاتا ہے۔لیکن چونکہ بیرونی جماعتیں تعداد میں کم ہیں، اس لئے ان کے چندوں سے ہمیں عالمگیر سکیم میں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ہاں مقامی طور پر ان کا فائدہ پہنچ جاتا ہے۔مثلاً انڈونیشیا کا مشن ہے، وہ اپنا سارا بوجھ خود برداشت کر رہا ہے۔ایسٹ افریقہ کا مشن ہے، وہ اپنا بوجھ خود اٹھا رہا ہے۔مغربی افریقہ کے تین مشن ہیں، وہ بھی اپنا بوجھ خود اٹھاتے ہیں۔شام کا مشن ہے، وہ بھی قریباً اپنا سارا بوجھ خود برداشت کرتا ہے۔اسی طرح اور کئی مشن ہیں، جو اپنا سارا بوجھ تو نہیں اٹھاتے لیکن ایک حصہ ضرور اٹھاتے ہیں۔کوئی تین چوتھائی بوجھ اٹھا رہا ہے ، کوئی نصف بوجھ اٹھا رہا ہے، کوئی ایک تہائی بوجھ اٹھارہا ہے، کوئی ایک چوتھائی بوجھ اٹھارہا ہے۔اس لئے ان پر مرکز کو زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔مرکز کو لازمی طور پر اس قسم کے مشنوں پر کم خرچ کرنا پڑتا ہے۔لیکن جہاں جماعت کے افراد کی تعداد بہت کم ہے اور اخراجات زیادہ ہیں ، مثلاً ہالینڈ ہے، امریکہ ہے ، سوئٹزر لینڈ ہے، جرمنی ہے، وہاں زیادہ تر مرکز کو بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔کیونکہ وہ جماعتیں بہت تھوڑا بوجھ خود اٹھا سکتی ہیں۔یا مبلغ آتے جاتے ہیں تو ان کا کرایہ اور دوسرے مصارف مرکز کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔یا طالب علم ، خصوصا بیرونی طالب علم ہیں، ان کے اخراجات مرکز کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔اس وقت زیادہ تر انہیں مدات پر خرچ ہوتا ہے۔اگر کسی جگہ نیا مشن کھولا جائے تو چونکہ ایک، دو سال تک وہاں جماعت اس قدر نہیں ہوتی کہ وہ کوئی مالی بوجھ اٹھا سکے، اس لئے سب اخراجات مرکز کو برداشت کرنے پڑیں گے۔مثلاً جاپان میں اس وقت احمد یہ جماعت قائم نہیں ، اگر ہم اپنا مشن کھولیں تو اس وقت تک کہ وہاں جماعت قائم ہو جائے اور وہ 407