تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 378

خطبہ جمعہ فرمود و 12 فروری 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کہ وہ اپنے بچے غیر مکوں میں بھیجیں تا کہ وہ دینی تعلیم حاصل کریں اور اس طرح وہ اپنے علاقوں میں اسلام کو مضبوط کر سکیں۔چنانچہ پرسوں ہی مجھے سوڈان کی جماعت اسلامیہ کی طرف سے چٹھی آئی ہے کہ آپ اپنی جماعت کی طرف سے ہمارے کچھ لڑکوں کو وظیفے دیں تا کہ وہ دوسرے ممالک میں جا کر اسلام کی تعلیم حاصل کر سکیں۔اور اس طرح نہ صرف ہر سال ہمارے ملک کی تعلیم ترقی کرے بلکہ اسلامی ممالک ہمارے تعلقات بھی مضبوط ہوں۔سے ہر ملک میں کچھ خصلتیں ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے وہ اپنے قرب وجوار کے علاقہ میں ایک فضیلت حاصل کر لیتا ہے۔مثلاً یورپ کے ملکوں میں ذاتی کریکٹر اور محنت کی عادت ایسی پائی جاتی ہے، جو ابھی تک ایشیائی ممالک میں پیدا نہیں ہوسکی۔وہاں لوگ اس قدر محنت کرتے ہیں کہ ان کے آگے ہمارے ملک کے رہنے والوں کی محنت بالکل بیچ نظر آتی ہے۔اگر ہمارے سامنے خدا تعالیٰ کے وعدے نہ ہوں تو انہیں دیکھ کر ہمیں مایوسی ہوتی ہے کہ ان حالات میں ہم ان کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ ان کے عورت، مرد اور بچے سب کام میں لگے ہوئے ہوتے ہیں، ان کے دلوں میں امنگیں پائی جاتی ہیں اور ان میں سے کوئی شخص نہیں چاہتا کہ وہ اپنے مقام پر ہمیشہ کھڑا ر ہے۔یا ہمارے ملک کے لوگوں کی طرح یہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اسے سہارا دے کر کھڑا کریں۔ہمارے ملک میں اگر کوئی شخص ذراسی تکلیف میں بھی مبتلا ہو تو جاتا ہے تو وہ اپنے دائیں بائیں دیکھنے لگ جاتا ہے۔اور پھر اسلامی تعلیم کی کمی کی وجہ سے چونکہ مذہب کا مادہ کم ہو گیا ہے، اس لئے وہ یہ نہیں کرتا کہ اپنے نمونہ سے لوگوں کے اندر مدد کی تڑپ پیدا کرے بلکہ لوگوں کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرتے۔ہمارے ملک کی حالت ایسی ہو رہی ہے، جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی سپاہی کسی سڑک سے گزر رہا تھا کہ اس کے کان میں آواز آئی کہ میاں ادھر آؤ میاں ادھر آؤ۔سڑک کے قریب ہی جنگل تھا، جس سے آواز آ رہی تھی۔وہ سڑک چھوڑ کر جنگل کی طرف گیا اور اس نے دیکھا کہ دو آدمی لیٹے ہوئے ہیں۔اس نے ان سے دریافت کیا کہ تم پر کیا مصیبت پڑی ہے، جس کی وجہ سے تم نے مجھے بلایا ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا، یہاں اوپر کی بیری سے ایک بیر گر کر میرے سینہ پر آپڑا ہے ہم یہ بیراٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو۔سپاہی کو غصہ آیا کہ اتنی چھوٹی سی بات کے لئے اسے تکلیف دی گئی ہے اور اس کا سفر خراب کیا گیا ہے۔چنانچہ سپاہی اس سے ترشی سے پیش آیا اور اس نے کہا تم بڑے بے حیا اور بے شرم ہو۔کیا تم خود یہ پیر اٹھا کر منہ میں نہیں ڈال سکتے تھے ؟ اس پر دوسرا شخص کہنے لگا، میاں جانے دو، کیوں ناراض ہوتے ہو؟ اس شخص کی حالت ہی ایسی ہے، ساری 378