تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 379
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبه جمعه فرموده 12 فروری 1954ء رات کتا میر امنہ چاہتا رہا لیکن اس کم بخت سے اتنا بھی نہیں ہوا کہ اسے ہشت کرتا۔یہ بات سن کر سپاہی بالکل مایوس ہو گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ انہیں کچھ کہنا بے فائدہ ہے۔چنانچہ وہ اپنے سفر پر چلا گیا۔ہمارے سارے ملک کی یہی حالت ہے۔ہر شخص یہ امید کرتا ہے کہ اسے دوسرے لوگ اٹھا ئیں۔اور اگر دوسرے لوگ اسے نہیں اٹھاتے تو اسے ان سے شکوہ ہوتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔سینکڑوں آدمی ایسے ہیں، جو جماعت کے وظائف سے پڑھ کر انٹرنس تک تعلیم حاصل کر چکے ہیں یا وہ بی۔اے یا ایم۔اے ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی وہ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ جماعت نے ان کی پوری مدد نہیں کی۔انہیں یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ جن لوگوں نے انہیں مدد دی ہے ، ان کی حالت بھی ان جیسی ہی ہے۔کئی لوگ ایسے ہیں، جنہوں نے چندے دیئے اور اس مالی بوجھ کو برداشت کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم خراب کر لی۔اور پھر اگر وہ اپنے خرچ پر پڑھتا تو شاید انٹرنس پاس کر لیتا یا ایف اے کر لیتا۔لیکن جماعت کی مدد سے اس نے بی۔اے یا ایم۔اے پاس کر لیا ہے۔مگر بجائے اس کے کہ وہ احسان مند ہو اور یہ ارادہ کر لے کہ اب وہ دوسروں کو تعلیم کے سلسلہ میں مالی مدد دے گا، وہ جماعت سے اس بات کا شکوہ کرتا ہے کہ اس نے پوری طرح اس کی مدد نہیں کی۔دوسرے ملکوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔جماعتیں اور سوسائٹیاں تو الگ رہیں، وہ لوگ ماں باپ سے بھی مدد نہیں لیتے۔ایک دفعہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے مجھے ایک قصہ سنایا۔جب وہ پہلی دفعہ امریکہ گئے، اس وقت وہ وزیر نہیں ہوئے تھے۔اب تو ان کی تقریروں اور خدمات کی وجہ سے ایک خاص اثر قائم ہو چکا ہے۔لیکن جب وہ نئے نئے امریکہ گئے تھے تو اس وقت ہمارے مبلغوں کی امداد بھی ان کے لئے بڑی کار آمد ہوتی تھی۔ایک دن انہوں نے سیر کے لئے باہر جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے مبلغ سے کہا کہ وہ انہیں کوئی ایسا آدمی دے، جو سیر کرا دے۔چنانچہ مبلغ نے انہیں چودہ پندرہ سال کا ایک لڑکا دیا اور کہا کہ یہ ہوشیارلڑکا ہے، یہ آپ کو سیر کرا دے گا۔وہ لڑکا چودہ، پندرہ سال کا تھا یا سولہ سترہ سال کا ، بہر حال اس کی عمر تعلیمی تھی۔چوہدری صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کی باتوں سے پتہ لگتا تھا کہ وہ نوکری کرتا ہے اور اس کی باتوں سے یہ بھی پتہ لگتا تھا کہ اس کا باپ اچھا مالدار ہے۔چوہدری صاحب نے بتایا کہ میں نے اس لڑکے سے کہا، میاں تمہارا باپ مالدار ہے، وہ تمہیں تعلیم کیوں نہیں دلاتا ؟ اس پر مجھے یوں محسوس ہوا کہ گویا اس کی ہتک ہو گئی ہے اور وہ بڑے جوش سے کہنے لگا، میں کسی کی مدد کیوں لوں؟ میرا باپ اپنی محنت سے بڑا بنا ہے، میں بھی اپنی محنت سے بڑا بنوں گا۔مجھے کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہیں۔379