تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 327

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم جب بڑے ہو کر آپ نے دعوی نبوت کیا تو قوم نے آپ کو رد کر دیا۔مکہ والوں نے آپ کو دھتکار دیا اور اپنے گھر سے نکال دیا۔ہم جو غیر تھے اور سینکڑوں میل دور رہتے تھے، ہم نے آپ کو پناہ دی اور آپ " کو مکہ والوں کے خلاف مدد دی۔مکہ والے غصہ میں آکر مدینہ پہنچے اور آپ پر حملہ کیا۔اس پر ہم آپ کے دائیں بھی لڑے اور بائیں بھی لڑے، آگے بھی لڑے اور پیچھے بھی لڑے، ہم نے اپنی جانیں قربان کر کے آپ کا وطن فتح کر کے دیا۔مگر جب ہمارے خونوں سے آپ کی عزت قائم ہوئی اور آپ کا وطن مکہ فتح ہوا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا مال اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا اور ہمیں اس سے محروم کر دیا۔انصار ایک بڑی مومن قوم تھے۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں سنتے جاتے تھے اور آہ وزاری سے ان کی ہچکیاں بندھتی جاتی تھیں۔انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ہم نے یہ نہیں کہا ، ہم میں سے بعض بے وقوف نو جوانوں نے ایسا کہا ہے، بڑوں نے یہ بات نہیں کہی ، ہم سب اس سے بیزار ہیں۔آپ نے فرمایا، اے انصار! اس مسئلہ کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔تم یوں بھی کہہ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے اپنا آخری نبی مکہ میں بھیجا اور اس کی وجہ سے مکہ والوں کو عزت بخشی گئی۔لیکن مکہ والوں کی بدقسمتی اور ان کے بد اعمال کی وجہ سے وہ اپنے رسول کو مدینہ لے گیا۔اور جو نعمت مکہ کے لئے مقدر تھی ، وہ مدینہ کو دے دی گئی۔پھر خدا تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوئے اور غیر معمولی نشانوں کی مدد سے اس نے اپنے رسول کو فتح نصیب کی۔جب اس نے مکہ فتح کر لیا اور کفر کو وہاں سے نکال دیا تو مکہ والوں کو یہ امید پیدا ہوئی کہ ان کی نعمت انہیں واپس مل جائے گی۔لیکن ہوا یہ کہ مکہ والے تو اونٹ اور بکریاں ہانک کر لے گئے اور مدینہ والے خدا تعالیٰ کے رسول کو اپنے ساتھ لے گئے۔کیونکہ باوجود مکہ فتح ہونے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینہ نہیں چھوڑا۔پس آپ نے فرمایا، اے انصار ! تم اس طرح بھی کہہ سکتے ہو۔انصار کی روتے روتے پھر ہچکیاں بندھ گئیں اور کہا، یا رسول اللہ ! ہم نے یہ بات نہیں کہی۔اسی طرح آج انہیں سال کے بعد یہ بھی ہوسکتا تھا کہ میں تمہارے اموال واپس کر دیتا اور کہتا ، 19 سال تک جو مال تم نے دیا، وہ مال تم لے جاؤ اور اپنے گھروں میں رکھو۔مگر جیسا کہ فتح مکہ کے بعد ہوا، یہ بھی ہوسکتا تھا کہ میں کہتا مال اور دولت کی کوئی قیمت نہیں ہم مال اور دولت اپنے گھروں میں نہ لے جاؤ بلکہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت اپنے گھروں میں لے جاؤ تم میں سے کوئی شخص مجھے بیوقوف سمجھے یا عقلمند سمجھے، لیکن میں نے تمہارے لئے دوسری چیز کو قبول کیا۔جب 19 سال ختم ہونے کو آئے تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں تحریک جدید کو اس وقت تک جاری رکھوں گا جب تک کہ تمہار ا سانس قائم ہے۔تا خدا تعالیٰ کا 327