تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 326

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم زکوۃ کے لئے قرآن کریم میں احکام نازل ہوئے ہیں، ویسے ہی جہاد روحانی اور تبلیغ اسلام کے متعلق بھی ارشادات نازل ہوئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اس کی جو تعریف کی ہے، وہ تھوڑی نہیں۔ایک دفعہ آپ نے حضرت علی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، اے علی ! یہ سامنے دونوں پہاڑوں کے درمیان جو وادی نظر آتی ہے، اگر اس وادی میں اونٹ اور گھوڑے بھرے ہوں اور وہ سب اونٹ اور گھوڑے تجھے مل جائیں تو یہ کتنی بڑی بات ہے۔پھر فرمایا ، اگر تجھے اتنے اونٹ اور گھوڑے مل جائیں تو اس سے بہت زیادہ یہ دولت ہے کہ کسی ایک انسان کو تیرے ذریعہ ہدایت مل جائے۔دیکھو ! تبلیغ کرنے اور دوسروں کو ہدایت کی طرف لانے کی کتنی فوقیت اور عظمت آپ نے بیان فرمائی ہے۔پس یہ وہ کام ہے، جس کو کسی وقت بھی چھوڑ انہیں جاسکتا۔پس میں 19 سال کا دور ختم ہونے پر یہ مانتے ہوئے کہ میں نے یہ کہا تھا کہ 19 سال کے بعد یہ دور ختم ہو جائے گا، یہ جانتے ہوئے کہ میں نے یہ الفاظ کہہ کر تمہارے اندر یہ امید پیدا کر دی تھی کہ اس عرصے کے بعد یہ مالی بوجھ تمہاری پیٹھ سے اتر جائے گا، بیسویں سال کے وعدوں کی تحریک کرتا ہوں۔چاہے تم یہ کہ لو کہ میں بے شرم ہو کر پھر مانگتا ہوں۔یا یہ سمجھ لو کہ میں اب زیادہ نور پا کر آ گیا ہوں۔یا پہلے میں غلطی کا مرتکب ہوا تھا اور اب خدا تعالیٰ نے مجھے غلطی سے نکال لیا ہے۔تم یوں بھی کہہ سکتے ہو اور یوں بھی کہہ سکتے ہو۔میری مثال وہی ہے ، جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا اور اس کے بعد طائف کی لڑائی ہوئی اور فتح کے بعد غنیمت کے اموال آئے تو آپ نے مکہ والوں کو نئے مسلمان سمجھ کر ان کی استمالت قلب کے لئے اور انہیں اپنی طرف کھینچنے کے لئے اور تالیف قلوب کے لئے اموال ان میں تقسیم کر دئیے۔اس پر مدینہ کے انصار میں سے ایک نوجوان نے کہا، خون تو ہماری تلواروں کے سروں سے ٹپک رہا ہے اور اموال آپ نے اپنے رشتہ داروں اور خاندان کے افراد میں تقسیم کر دیئے ہیں۔یہ بات آپ تک بھی پہنچی۔آپ نے انصار کو بلایا اور فرمایا، اے انصار! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم میں سے بعض لوگوں نے یہ بات کہی ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اموال اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیئے ہیں۔انصار نے کہا، یا رسول اللہ ! یہ درست ہے کہ ہم میں سے بعض نو جوانوں نے ایسا کہا ہے۔لیکن ہم ان سے متفق نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا، انصار ! جو بات کسی کے منہ سے نکل گئی ، نکل گئی۔اے انصار ! تم یہ کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے ، 326