تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 311
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1953ء ہماری جماعت غیر ممالک میں مساجد کے قیام کی اہمیت کو سمجھے خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1953ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب زکوٰۃ کے احکام نازل ہوئے تو آپ نے ایک کے پاس جو مالدار تھا، اپنا نمائندہ روانہ کیا۔تا کہ وہ اس سے زکوۃ وصول کرے۔جب وہ نمائندہ اس شخص کے پاس پہنچا تو بجائے اس کے کہ وہ زکوۃ ادا کرتا ، اس نے کہا، کیا ہمارے اپنے خرچ تھوڑے ہوتے ہیں؟ ہم پر اتنے بوجھ پڑے ہوئے ہیں اور یہ اٹھتے ہیں تو کہتے ہیں، چندہ دے دو، زکوۃ دے دو۔ان کو چندے اور زکوۃ لینے کی ہی پڑی رہتی ہے اور ہمارے بوجھ اور ذمہ واریوں کا خیال نہیں ہوتا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ آئندہ اس شخص سے زکوۃ وصول نہ کی جائے۔اس شخص کے دل میں ایک حد تک ایمان پایا جاتا تھا۔کہنے کو تو اس نے یہ بات کہہ دی۔لیکن چونکہ اس کے دل میں ایمان تھا، بعد میں اسے خیال پیدا ہوا کہ میں نے غلطی کی ہے اور خدا تعالیٰ کا حق میں نے ادا نہیں کیا۔چنانچہ وہ جلدی جلدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا، یا رسول اللہ! مجھ سے غلطی ہو گئی تھی، میں زکوۃ لایا ہوں ، اب مجھ سے زکوۃ لے لی جائے۔آپ نے فرمایا ، اب نہیں۔کیونکہ ہم نے حکم دے دیا ہے کہ تم سے زکوۃ وصول نہ کی جائے۔اگر وہ آجکل کے لوگوں کی طرح ہوتا تو شاید خوش ہوتا کہ چلو چھٹکارا ہو گیا۔مگر باوجود اس کے کہ وہ ضعیف الایمان تھا ، آجکل کے ایمان داروں سے وہ زیادہ ایمان دار تھا۔چنانچہ اس انکار سے وہ خوش نہیں ہوا کہ چلو چھٹی ہو گئی بلکہ اس کے دل کو صدمہ پہنچا اور اس نے سمجھا کہ مجھ سے زکوۃ لینے سے جو انکار کیا گیا ہے، یہ میرے لئے سزا ہے، انعام نہیں۔اور وہ افسوس اور ندامت کا اظہار کرتا رہا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوۃ وصول نہیں کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں پھر ز کوۃ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔مگر حضرت ابوبکر نے فرمایا، جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ وصول نہیں کی ، اس سے میں بھی زکوۃ وصول نہیں کر سکتا۔اور وہ روتا ہوا واپس چلا گیا۔311