تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 312

خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1953 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم غرض انسان مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے اپنے حالات کو دیکھتا ہے۔کئی غریب لوگ ہوتے ہیں، جنہیں دین کی خدمت کا موقع ملے تو وہ اتنے خوش ہوتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے انہیں کوئی بہت بڑی دولت مل گئی ہے۔اور کئی آسودہ حال لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی جان نکلتی ہے اور دین کی خدمت کے لئے اپنا روپیہ خرچ کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے وہ اس طرح بھاگتے ہیں، جس طرح دیوانہ کتے سے انسان بھاگتا ہے۔یہاں سندھ میں بھی میں نے دیکھا ہے، کنری اور بعض دوسرے مقامات پر جو احمدی دوست موجود ہیں، وہ الاماشاء اللہ قریباً سب کے سب ایسے ہیں، جو ہجرت سے پہلے مالی لحاظ سے مختلف قسم کی مشکلات میں مبتلا تھے۔مگر ہجرت کے بعد ان کی مالی حالت اچھی ہوگئی۔یا ہجرت سے پہلے ان کی کوئی تجارت نہیں تھی۔یا اگر تجارت تھی تو اس میں نقصان ہی نقصان ہوا کرتا تھا۔مگر کنری میں آئے تو انہیں دکانیں بھی مل گئیں ، زمینیں بھی مل گئیں اور ان کی تجارتیں کامیاب طور پر چل نکلیں۔یا اگر پہلے ان کے پاس کوئی زمین نہیں تھی تو یہاں سلسلہ کی اسٹیٹس پر مزارعہ بن کر انہوں نے زمینیں خرید لیں۔لیکن باوجود اس کے کہ یہاں کے لوگوں کی مالی حالت پہلے سے بہت زیادہ اچھی ہے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، ان لوگوں میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا احساس بہت کم ہے۔مثلاً گذشتہ سال میں نے مختلف ممالک میں مساجد تعمیر کرنے کے لئے جماعت میں ایک تحریک کی اور میں نے کہا کہ وہ زمیندار، جن کی زمین دس ایکڑ سے کم ہے، وہ ایک آنہ فی ایکڑ کے حساب سے اور جن کے پاس اس سے زیادہ زمین ہے، وہ دو آنے فی ایکڑ کے حساب سے مسجد فنڈ میں چندہ دیں۔اسی طرح وہ مزارع ، جن کے پاس دس ایکڑ سے کم مزارعت ہے، وہ دو پیسہ فی ایکڑ کے حساب سے اور اس سے زائد مزارعت والے، ایک آنہ فی ایکڑ کے حساب سے رقم ادا کریں۔اسی طرح تاجروں کے متعلق میں نے کہا کہ جو بڑے تاجر ہیں، مثلاً منڈیوں کے آڑھتی ہیں یا کمپنیوں اور کارخانوں والے ہیں، وہ ہر مہینہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دیا کریں۔اور جو چھوٹے تاجر ہیں، وہ ہر ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دیا کریں۔(یہ تمام تفاصیل 16 مئی 52 ء کے خطبہ جمعہ میں درج ہیں، جو الفضل 3 جون 52ء میں شائع ہو چکا ہے۔لیکن جہاں تک میر اعلم ہے، شاید ہی اس علاقہ میں سے کسی نے اس تحریک میں حصہ لیا ہو۔( نبی سر روڈ کے احمدی تاجروں نے لکھا ہے کہ وہ اس پر عمل کر رہے ہیں، تحقیق بعد میں ہوگی۔یا اگر کسی نے حصہ لیا ہے تو میرے سامنے اس کی مثال نہیں آئی۔اوروں کو جانے دو، یہاں جو مالک زمیندار ہیں، ان کی طرف سے بھی اس تحریک میں کوئی حصہ نہیں لیا 312