تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 298

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 505 تمبر 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم وفات کے بعد ہی قریبا مفقود ہوگئی۔کیونکہ خلفاء ان جنگوں میں جو عیسائیوں اور زرتشتیوں کے خلاف لڑی گئیں ، اس قدر الجھ گئے کہ اس وقت جہاد اور تبلیغ دونوں کو ایک سمجھ لیا گیا۔اور خلفاء کے بعد مسلمانوں پر جمود طاری ہو گیا ، وہ دنیوی شان و شوکت اور ترقیات کو اپنا منتہائے مقصود سمجھ بیٹھے اور تبلیغ کی اصل روح کو بھول گئے۔پس انفرادی طور پر اسلام میں نہایت عظیم الشان لوگ پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے تبلیغ اسلام کے فرض کو اچھی طرح ادا کیا۔افغانستان میں مسلمان پھیل گئے ، افریقہ میں وہ گئے اور وہاں تبلیغ کی ، وہ چین، جاپان ، انڈونیشیا اور ہندوستان میں آئے اور یہاں اسلام کی تبلیغ کی اور لاکھوں لوگ ان کے ذریعہ مسلمان ہوئے۔غرض انہوں نے تبلیغ کی اور بڑی شان سے تبلیغ کی۔لیکن یہ انفرادیت تھی ، اجتماعیت نہیں تھی۔حالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَلَتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةً يَدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ یعنی تم میں ہمیشہ ایک ایسی امت ہونی چاہئے ، جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائے اور انہیں نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے“۔وو اب تبلیغ جیسے عظیم الشان کام کو جاری کرنے کے لئے سلسلہ احمدیہ نے تحریک جدید جاری کی ہے۔تا باہر سے لوگ بلوائے جائیں، جو یہاں آکر دین سیکھیں۔اور ان میں سے ایسے لوگ تیار کئے جائیں، جو باہر جا کر لوگوں کو دین سکھائیں۔یہی قرآن کہتا ہے کہ تم باہر کے لوگوں کو تحریک کرو کہ وہ تمہارے پاس آکر دین سیکھیں اور مرکز میں تم ایک ایسی جماعت تیار کرو جو باہر جائے اورلوگوں کودین سکھائے۔تحریک جدید ان دونوں مقاصد کو پورا کرتی ہے۔1300 سال کے عرصہ میں بعد از زمانہ نبوت صحابہ کے وقت میں مجبوراً اور ان کے بعد مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے ہمیں یہ چیز نظر نہیں آتی۔آج صرف ہماری جماعت کو اس بات کی توفیق ہے۔کتنا عظیم الشان کام ہے۔اس ایک کام کی وجہ سے تمہیں دوسروں پر فضیلت حاصل ہو جاتی ہے اور تمہارے مقابلہ میں کوئی اور ٹھہر نہیں سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مصری لوگ اگر چہ ہم سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات قائم نہیں اور اس وجہ سے وہ عام طور پر ہماری مخالفت کرتے ہیں۔لیکن متواتر کچھ عرصہ کے بعد مصری اخبارات میں ایسے مضامین نکلتے رہتے ہیں، جن میں بتایا جاتا ہے کہ 1300 سال تک کسی نے وہ کام نہیں کیا، جو آج جماعت احمد یہ کر رہی ہے۔حال ہی میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اور جماعت احمدیہ کے خلاف مصر کے مفتی اعظم نے فتویٰ 298