تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 299
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 دسمبر 1952ء دیا ہے۔ایک شخص نے اپنے اخبار میں اس کے متعلق ایک مضمون لکھا۔مگر ایک طرف وہ اس فتوی کی تائید کرتا ہے اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ جماعت احمد یہ دنیا میں ایک واحد جماعت ہے، جو تبلیغ کا کام کر رہی ہے۔اس کے ہندوستان اور دوسرے ممالک میں کئی مبلغ ہیں، جو یہ کام کر رہے ہیں۔اگر چہ اس نے جھوٹ کو عظمت دی ہے لیکن ساتھ ہی اسے یہ اقرار کرنا پڑا ہے کہ تبلیغ صرف جماعت احمد یہ ہی کر رہی ہے۔اور یہ ایک فضیلت ہے، جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دوسرے مسلمانوں پر دی ہے۔اور یہ فضیلت ایسی ہے کہ لوگ اس کی نقل بھی نہیں کر سکتے۔اب احراری شور مچار ہے ہیں کہ مسلمان ایک کروڑ روپیہ چندہ دیں تا مبلغ تیار کئے جائیں اور یہ مبلغ دوسرے ممالک میں جا کر احمدیوں کے خلاف پروپیگنڈا کریں۔ہر جگہ ہم ہی غالب ہوں گے، نہ کہ مغلوب۔ہمیں تو خوشی ہوگی کہ یہ لوگ اپنے مبلغ بیرونی ممالک میں بھیجیں۔اول تو خدا گنجے کو ناخن نہ دے ، یہ لوگ یہ کام کر ہی نہیں سکتے۔یہ تو دس کروڑ روپیہ بھی ہوگا تو کھا جائیں گے۔لیکن اگر یہ لوگ مبلغ بھیجیں گے تو ان کا یہ اقدام ہمارے لئے خوشی کا وو موجب ہوگا۔ان کا مبلغ ہمارے مقابلہ میں جو مسئلہ بھی پیش کرے گا، وہ اسے ذلیل کرے گا“۔پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں عظیم الشان موقع عطا کیا ہے۔اگر تم اسے اپنے ہاتھ سے چھوڑ دو گے تو تم کتنے بدقسمت ہو گے۔پس یہ تحریک اپنے ساتھ بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اتنی بڑی اہمیت کہ تیرہ سو سال تک کسی شخص کواس کام کی توفیق نہیں لی ، جواس تحریک کے ماتحت کیا جارہا ہے۔دوسرے خدا تعالٰی نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ اس کام میں کوئی شخص تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یا تو اسے احمدی ہونا پڑے گا اور یا شرمندہ ہونا پڑے گا۔وو پس تحریک جدید خدا تعالیٰ کے فضل اور برکت سے آئی ہے اور ہر شخص کو اس میں حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔میں نے پچھلی دفعہ کہا تھا کہ یہ قحط کا زمانہ ہے، مصائب اور آفات کا زمانہ ہے، لیکن جس طرح ایک ماں اپنے آپ کو فاقہ میں رکھتی ہے لیکن اپنے بچہ کو فاقہ نہیں آنے دیتی ، اسی طرح تم بھی دین سے ماں جیسی محبت کرو تم خود فاقہ کرو لیکن دینی کاموں میں سستی نہ آنے دو“۔وو۔پس بے شک یہ دن قحط کے ہیں، مصائب کے ہیں، آفات کے ہیں لیکن دین کی خدمت کرنے والا بھی تو تمہارے سوا اور کوئی نہیں۔اگر دین کو فاقے مارو گے تو تمہی مارو گے اور اگر اسے پالو گے تو تمہی پالو گے۔اگر اس کی خاطر فاقہ کرو گے تو تمہی کرو گے اور کوئی قربانی کرو گے تو تہی کرو گے۔اور کوئی نہیں کرے گا۔اس کا وجود خدا تعالیٰ نے تمہارے سپرد کیا ہے۔تمہی اس کے ولی ہو، تمہی اس کے 299