تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 276

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اپریل 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم کہ واقعی وہ فہرست صحیح ہے یا نہیں۔(ایک نامکمل فہرست اس عرصہ میں پیش ہوئی ، جب جرح کر کے واپس کی گئی تو مقامی صدر نے اب تک رپورٹ نہیں کی۔) پھر جو آمد وہ تشخیص کریں گے، ہم انہیں چیک کریں گے۔ہم سب کو بلائیں گے اور سب کے سامنے یہ دریافت کریں گے کہ یہ شخص اپنی سورو پیہ ماہوار آمد بتا تا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ تم ان کی عورتوں سے پوچھو کہ ان کی آمد کیا ہے؟ اور تو الگ رہے، میرے اپنے بیٹے بھی میرے نزدیک شرح کے مطابق چندہ نہیں دیتے کیونکہ ان کی صحیح نگرانی نہیں کی جاتی۔بہت سے لوگ ایسے ہیں ، جن کی آمد ہے۔لیکن وہ اس آمد کے مطابق چندہ دیتے ہیں، جو انہیں صدر انجمن احمدیہ سے ہوتی ہے۔پھر تاجر لوگ اپنی آمد کم بتاتے ہیں اور پھر بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو چندہ دیتے ہی نہیں۔میری اپنی رائے میں ربوہ کے چندہ میں 25 فیصدی اور ترقی کی جاسکتی ہے۔جب ربوہ کی جماعت چندہ میں 25 فیصدی اور ترقی کرلے گی تو ہم جماعت میں اعلان کریں گے کہ ہم نے اپنے آپ کو منظم کر لیا ہے، تم بھی اپنی اپنی جماعت کو منظم کرو۔اس ذریعہ سے ہم موجودہ صدمہ سے بیچ سکتے ہیں اور اس خلیج سے پار ہو سکتے ہیں، جس میں ہم گر رہے ہیں۔پھر اس کے بعد ہمیں موقع مل جائے گا کہ اپنی تبلیغ کو وسیع کریں اور اگلے سال اس میں زیادتی کے لیے رقم جمع کریں۔میں صدرا انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنا خرچ نہ بڑھائیں۔محکمے جو کچھ کہتے ہیں، وہ ان کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔اصول یہ ہونا چاہئے کہ جو محکمہ شور مچاتا ہے کہ مجھے مزید اخراجات کی ضرورت ہے، اس سے یہ کہا جائے کہ ہمارے پاس رقم نہیں ہم ہی بتاؤ ، ہم کس محکمہ کواڑا ئیں؟ اگر وہ کسی محکمے کا نام لے تو کہو پہلے اس کو منا لو۔اس طرح وہ آپس میں لڑتے رہیں گے اور ہمارا پیچھا چھوڑ دیں گے۔در حقیقت جو محکمے شور مچاتے ہیں، وہ تمہارا ناک مروڑتے جاتے ہیں۔میں حیران ہوں کہ جب انہیں نظر آتا تھا کہ اتنی مصیبت آرہی ہے تو انہوں نے پچھلے سال اس کا خیال کیوں نہ کر لیا؟ اگر وہ اس کا پچھلے سال خیال کر لیتے تو اتنی مصیبت نہ ہوتی، جو اس سال پیش آئی ہے۔بجائے پونے دولاکھ روپیہ کی کٹوتی ہونے کے ستر ، اسی ہزار روپے کی کٹوتی ہوتی اور ہمیں ایک دو سال اصلاح کے لئے مل جاتے۔ہم اپنی تنظیم کے لئے چندہ بڑھاتے اور خطرہ سے نکل جاتے۔اب تو تم اتنے خطرناک حالات میں تھے کہ اگر فائنس سٹینڈنگ کمیٹی کی اس طرف توجہ نہ جاتی اور اگر وہ بجٹ کے نقائص کو معلوم نہ کرتی اور بجٹ اس طرح پاس ہو جا تا تو اگلے سال ہمارے بچنے کا کوئی ذریعہ ہی نہ تھا۔فائنٹس سٹینڈنگ کمیٹی نے وقت پر ہمیں ہوشیار کر دیا کہ بجٹ غلط اندازے پر بنایا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ بجٹ پورا ہے اور ہمیں کوئی خطرہ نہیں، 276