تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 241
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء جہاں کھڑے ہو کر میں اس وقت خطبہ پڑھ رہا ہوں، یہاں مسلمانوں کی چھاؤنی ہوا کرتی تھی اور ادھر سے ادھر فوجیں جایا کرتیں تھیں اور یا اب ادھر سے ادھر فو جیں آنے لگ گئی ہیں۔اس لئے کہ مسلمان جہاد بھول گئے۔پہلے تم مسجدیں بناتے چلے جاتے تھے مگر اب تم واپس آرہے ہو اور مساجد گرائی جارہی ہیں، ہزاروں ہزار بزرگوں کے مقابر اس وقت مشرقی پنجاب میں گرے ہوئے ہیں، کتے ان پر پیشاب کرتے ہیں تو کوئی ہزاروں ہزار مسجدمیں مشرقی پنجاب اور یوپی وغیرہ میں گری ہوئی ہیں اور ان کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔محض اس لئے کہ مسلمانوں نے جہاد کو ترک کر دیا۔اگر مسلمان جہاد حقیقی کو سمجھ لیتا، اگر مسلمان جان لیتا کہ صرف تلوار چلانا ہی جہاد نہیں تو آج وہ دنیا میں ذلیل نہ ہوتا۔اس نے سمجھا کہ تلوار کا جہاد ہی اصل جہاد ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب انہوں نے کوئی علاقہ فتح کر لیا توسمجھ لیا کہ اب ان کا کام ختم ہو گیا ہے۔اگر وہ اس جہاد کو سمجھتے ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا ہے کہ کبھی تلوار چلانا جہاد ہوتا ہے، کبھی تبلیغ کرنا جہاد ہوتا ہے، کبھی اشاعت لٹریچر کرنا جہاد ہوتا ہے، کبھی تربیت کرنا جہاد ہوتا ہے، کبھی تعلیم دینا جہاد ہوتا ہے تو جب ہندوستان کو انہوں نے فتح کر لیا تھا، وہ یہ نہ مجھتے کہ ان کا کام ختم ہو گیا ہے۔بلکہ سمجھتے کہ اب ہمارا اور کام شروع ہو گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لڑائی سے واپس آئے تو آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے اب بڑے جہاد کی طرف آئے ہیں۔یعنی وہ جہاد تو ختم ہو گیا، اب تعلیم و تربیت کا جہاد شروع ہوگا ، جو اس جہاد سے زیادہ اہم ہے۔پس جہاد ہمیشہ کے لئے ہے۔یہ محض مولویوں کی نادانی اور بیوقوفی تھی کہ انہوں نے تلوار کے جہاد کو ہی جہاد سمجھا اور اس طرح اسلام کو نقصان پہنچا دیا۔چنانچہ جب تلوار کا جہاد ختم ہو گیا تو مسلمانوں نے سمجھا کہ اب ان کا کام بھی ختم ہو گیا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ آج بھی ہندوسان میں 32 کروڑ ہندو اور آٹھ کروڑ مسلمان ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام والا جہاد اختیار کیا جاتا تو آج 32 کروڑ مسلمان اور آٹھ کروڑ ہندو ہوتے۔بلکہ آٹھ کروڑ ہندو بھی نہ ہوتے ، سب کے سر ہوتے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سات سو سال تک حکومت کی جائے اور پھر کافر باقی رہ جائیں ؟ اگر تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا جاتا تو یہ ناممکن تھا کہ غیر مذاہب کے لوگ اتنی کثرت کے ساتھ موجود رہتے۔پس جب میں نے کہا کہ یہ تحریک تین سال کے لئے ہے یا جب میں نے کہا کہ یہ تحریک دس سال کے لئے ہے تو یقیناً میں نے غلط کہا۔مگر اس لئے کہا کہ جو کچھ خدا کا منشاء تھا، وہ میں پورے طور پر نہیں سمجھا تھا۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ والوں کے معاہدہ کی حقیقت کو اس وقت پورے طور پر نہیں سمجھے۔تم مجھے کہہ سکتے ہو کہ اس وقت تم نے حقیقت کو پورے طور پر کیوں نہیں سمجھا ؟ میرا جواب یہ ہے کہ کیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا ہوں؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس وقت یہی کا سلمان 241