تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 242

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم سمجھا تھا کہ ملکہ کے لوگ مدینہ پر حملہ کر کے آئیں گے۔ان کے دفاع کے لئے مدینہ والوں کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جانا چاہیے۔لیکن خدا تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ آپ کو ساری دنیا پر غالب کرے، خدا تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ آپ باہر نکل کر کفار کا مقابلہ کریں۔اگر اس وقت یہ بات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوتی تو جب مدینہ والوں نے یہ کہا تھا کہ اگر کسی قوم نے مدینہ پر حملہ کیا تو ہم اس کا مقابلہ کریں گے تو آپ فرماتے تم یہ کیا کہ رہے ہو، ہمیں تو باہر بھی دشمن کا مقابلہ کرنا پڑے گا ؟ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا۔کیونکہ اس وقت اصل حقیقت آپ پر روشن نہیں ہوئی تھی۔پھر تم نے بھی میری بات کو اسی طرح نہیں سمجھا ، جس طرح صحابہ نے نہیں سمجھا۔انصار نے یہی سمجھا تھا کہ یہ لڑائی اگر ہوئی بھی تو صرف مدینہ میں ہو گی۔انہیں کب معلوم تھا کہ مدینہ کا سوال نہیں، یہ لڑائی ساری دنیا میں لڑی جانے والی ہے؟ کیا کسی انصاری کے وہم و گمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ پنجاب اور ہندوستان میں پنجاب اور ہندوستان میں بیٹھ کر بھی ایک مسلمان کولڑنا پڑے گا ؟ اسی طرح چین اور جاپان اور سماٹرا اور جاوا اور وہ دوسرے ملک ، جن کے نام بھی وہ نہیں جانتے تھے، ان میں مسلمانوں کولڑنا پڑے گا؟ لیکن خدا اس بات کو جانتا تھا۔چنانچہ جب اس کی حکمت واضح ہوئی تو معاہدات ختم ہو گئے۔اسی طرح جب میں نے تم سے تین سال کے لئے قربانی کرنے کو کہا تو میں نے اس قربانی کو ایک وقتی چیز سمجھ کر یہ اعلان کیا اور خدا نے ہمیں اس وقت فتح بھی دے دی۔چنانچہ احرار کو ہمارے مقابلہ میں خطر ناک شکست ہوئی۔اس کے بعد جب میں نے اس تحریک کو دس سال تک بڑھایا تو اس وقت مجھے کچھ کچھ روشنی نظر آنے لگ گئی تھی اور تبلیغ کا ایک رستہ کھل گیا تھا۔پھر جب میں نے انیس سال کہا تھا، اس وقت تک اور زیادہ روشنی نمودار ہو چکی تھی۔مگر اب ستر ہویں سال میں آکر پتہ لگا کہ خدا تعالیٰ کی سکیم بڑی بھاری ہے اور وہ قیامت تک کے لئے ہے۔اور جب یہ بات کھل گئی تو اب میں بھی تم سے اٹھارہ یا انیس سال کے لئے قربانی کرنے کو نہیں کہتا۔جب تک تمہارے جسموں میں خون چلتا ہے، اگر تم میں ایمان کا ایک ذرہ بھی موجود ہے تو تمہیں دین کی خدمت کرنی ہوگی۔بلکہ اگر تمہارے دلوں میں ایمان موجود ہے تو تمہاری تو یہ کیفیت ہونی چاہیے، اگر انیس سال کے بعد تم سے یہ کہا بھی جائے کہ اب تمہاری قربانی کی ضرورت نہیں تو تم رونے لگ جاؤ اور کہو کہ کیا ہم بے ایمان ہو گئے ہیں یا ہم دین سے مرتد ہو گئے ہیں کہ ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ اب تم سے دین کی خدمت کا کام نہیں لیا جائے گا ؟ پس آج میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اٹھارہ یا انہیں سال کا کوئی سوال نہیں۔ہم نے تمام دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے۔اور یہ کام ہم سے ہماری دائی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔اس وقت مغرب میں 242