تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 240
خطبه جمعه فرمودہ 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریکہ جلد سوم قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں تو تم بھی نہیں جانتے تھے کہ تمہارے سامنے کتنا بڑا کام ہے؟ لیکن اب جبکہ تمہیں پتہ لگ گیا ہے کہ تمہارا کیا کام ہے؟ جبکہ تمہیں پتہ لگ گیا ہے کہ دنیا بھر میں اسلام پھیلا نا تمہارا کام ہے۔اور مجھ پر خدا تعالیٰ کی سکیم کا ایک بڑا حصہ ظاہر ہو گیا ہے تو میرا مطالبہ بھی اس کے مطابق ہونا چاہیے اور تمہارا بھی اس وقت وہی جواب ہونا چاہیے، جو مدینہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔اب تمہیں بھی یہی کہنا چاہئے کہ اب تین یا دس یا انیس کا کیا سوال ہے؟ ہم اسلام کی حفاظت کے لئے اس کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن ہماری لاشوں پر سے گذرے بغیر اسلام کے جسم تک نہیں پہنچ سکتا۔غرض وعدے زمانہ کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔لیکن وعدہ ، معاہدے سے بہر حال کم ہے۔وعدہ ایک طرف سے ہوتا ہے اور معاہدہ دونوں طرف سے ہوتا ہے۔اور میں نے تم سے کوئی وعدہ بھی نہیں کیا ، صرف ایک اعلان تھا، جو میں نے کیا۔اور وہ بھی ان حالات میں اعلان تھا ، جب مستقبل میرے سامنے نہیں تھا، جب مستقبل تمہارے سامنے نہیں تھا۔اگر مستقبل تمہارے سامنے ہوتا کہ اب ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کا وقت آن پہنچا ہے تو میں نے جب تم سے کہا تھا کہ آؤ اور تین سال کے لئے قربانی کرو تو تم فوراً کھڑے ہو جاتے اور کہتے کہ تین سال میں کیا ہو سکتا ہے؟ تین سال میں تو ساری دنیا میں تبلیغ ) اسلام کی بنیاد میں بھی نہیں رکھی جاسکتیں۔پھر اگر مستقبل تمہارے سامنے ہوتا تو جب میں نے تم سے کہا تھا کہ آؤ اور دس سال کے لئے قربانی کرو تو تمہارا فرض تھا کہ تم کھڑے ہو جاتے اور کہتے دس سال میں ہم ساری دنیا میں کس طرح تبلیغ اسلام کر سکتے ہیں؟ پھر اگر مستقبل تمہارے سامنے ہوتا تو جب میں نے تم سے کہا تھا کہ آؤ اور انیس سال کے لئے قربانی کرو تو چاہئے تھا کہ تم کھڑے ہو جاتے اور کہتے ، کیا انیس سال میں اسلام ہمیشہ کے لئے قائم ہو سکتا ہے؟ یہ کام تو قیامت تک کے لئے ہے۔جس طرح نماز دس سال کے لئے نہیں، نماز انیس سال کے لئے نہیں، روزہ دس سال کے لئے نہیں، روزہ انیس سال کے لئے نہیں ، اسی طرح اسلام کی تبلیغ اور جہاد بھی دس یا انیس سال کے لئے نہیں ہو سکتے۔اگر نماز انیس سال کے لئے ہو سکتی ہے، اگر روزہ انیس سال کے لئے ہو سکتا ہے، اگر ز کوۃ انیس سال کے لئے ہو سکتی ہے تو پھر جہاد بھی انہیں سال کے لئے ہو سکتا ہے۔لیکن اگر نماز ہمیشہ کے لئے ہے، اگر روزہ ہمیشہ کے لئے ہے، اگر ز کوۃ ہمیشہ کے لئے ہے تو پھر جہاد بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔جس دن مسلمان جہاد سے غافل ہوئے ، اسی دن وہ تباہی کے گڑھے میں گرنے شروع ہو گئے۔اور یا تو وہ ساری دنیا پر غالب اور حکمران تھے اور یا ہر جگہ محکوم اور ذلیل ہو گئے۔کوئی زمانہ تھا کہ یہی مقام ، 240