تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 237

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء کہتا ہے اور پھر تمہارے شہر میں بیٹھ کر اپنے عقائد پھیلا رہا ہے۔یا تو تم خود اس کے ساتھ لڑائی کرویا اسے اپنے شہر سے نکال دو، ورنہ ہم سب مل کر مدینہ پر حملہ کر دیں گے اور تمہیں اس کی سزا دیں گے۔ادھرا کار کا مسلمانوں پر انہوں نے حملے شروع کر دیئے۔ان کے قافلے ، جو شام میں تجارت کے لئے جاتے تھے، انہوں نے اپنے اصل راستہ کو چھوڑ کر مدینہ کے ارد گرد کے قبائل میں سے گزرنا شروع کیا اور ان کو مدینہ والوں کے خلاف اکسانا شروع کر دیا۔غرض ملک میں چاروں طرف ایک شورش برپا ہوگئی۔اسی دوران میں بعض چھوٹی چھوٹی لڑائیاں بھی ہوئیں۔اور اس کے بعد بدر کی مشہور اور معرکتہ الآرا جنگ ہوئی۔اس جنگ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ شام سے کفار کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں آرہا تھا۔مکہ کے لوگوں نے اس خیال سے کہ کہیں مسلمان اس قافلہ پر حملہ نہ کر دیں، ایک بہت بڑا لشکر ابوجہل کی قیادت میں تیار کر کے بھجوا دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ دشمن آ رہا ہے۔قافلہ بھی آرہا ہے اور فوج بھی آرہی ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ یہ صورت حالات ہے، اگر اس وقت ہم باہر نہ نکلے تو کفار تمام عرب میں شور مچائیں گے اور اردگرد کے قبائل مسلمانوں کے خلاف بھڑک اٹھیں گے۔اس لئے مناسب یہی ہے کہ باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریباً تین سوصحابہ لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔مگر اس وقت تک صحابہ " کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا مقابلہ قافلہ والوں سے ہوگا یا اصل لشکر سے ہوگا۔مگر اللہ تعالیٰ یہی چاہتا تھا کہ قافلہ سے نہیں بلکہ اصل لشکر سے مقابلہ ہو۔جب بدر کے قریب پہنچے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتایا کہ الہی منشاء یہی ہے کہ مکہ کے اصل لشکر سے، جو ابو جہل کی قیادت میں آرہا ہے، ہمارا مقابلہ ہو۔جہاں تک میرا امطالعہ ہے، مجھے قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو مدینہ میں ہی یہ علم دے دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کا کفار کے اصل لشکر سے مقابلہ ہوگا۔مگر ساتھ ہی آپ کو منع کر دیا گیا تھا کہ ابھی یہ بات صحابہ کو بتائی نہ جائے۔لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب آپ باہر نکل آئے ، تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر اصل حقیقت کو ظاہر کیا گیا۔بہر حال جب کئی منزل طے کرنے کے بعد آپ بدر کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ " کو حکم ہوا کہ اب یہ بات صحابہ کو بتادی جائے۔یا اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر یہ امر ظاہر کیا گیا کہ قافلہ تو نکل گیا ہے، اب صرف لشکر کے ساتھ مقابلہ ہو گا۔آپ کے باہر نکلنے کی غرض یہی تھی کہ ان لوگوں کا دفاع کیا جائے۔کیونکہ یہ لوگ مدینہ کے پاس پہنچ کر شور مچائیں گے کہ ہم مکہ سے چل کر آگئے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ 237