تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 236
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم بڑی تعداد میں مکہ پہنچے اور وہ آپس میں یہ مشورہ کر کے آئے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کریں گے کہ اب مکہ کو چھوڑیے اور ہمارے شہر میں تشریف لے آئے۔چنانچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ سے ملے، انہوں نے آپ سے باتیں کیں ، آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ ہمارے ساتھ چلیں اور اب مکہ کو چھوڑ دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ملاقات کے وقت حضرت عباس کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔جو اگر چہ عمر میں آپ سے صرف دو سال بڑے تھے لیکن بڑے زیرک اور ہوشیار تھے۔مکہ کے بیچ تھے اور اس وجہ سے سیاسیات کو خوب سمجھتے تھے۔اور گو وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھے تعلقات رکھتے تھے، اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔جب مدینہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو حضرت عباس نے کہا باتیں کر لینی آسان ہوتی ہیں لیکن ان کو نبھانا مشکل ہوتا ہے۔اگر تم لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے گئے تو تمہیں یا درکھنا چاہیے کہ مکہ والوں نے اپنی مخالفت سے باز نہیں آنا اور پھر وہاں بھی مخالفت کا ہونا ، ایک لازمی امر ہے۔مکہ میں تو ان کے رشتہ دار موجود ہیں اور اس وجہ سے لوگ ان پر حملہ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔لیکن مدینہ میں رشتہ دار نہیں ہوں گے ، اس لئے تم خوب سوچ سمجھ کر بات کرو۔اگر تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو تمہیں آپ کی حفاظت کے لئے مرنا بھی پڑے گا۔انہوں نے کہا ہم اس بات کو خوب سمجھتے ہیں اور ہم نے تمام باتوں کو سوچ سمجھ کر ہی یہ درخواست کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لے چلیں۔حضرت عباس نے کہا تو پھر آؤ اور معاہدہ کرو۔چنانچہ ایک معاہدہ کیا گیا۔جس میں یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اگر مدینہ پر کفار حملہ کریں تو چونکہ آپ مدینہ ہماری درخواست پر تشریف لے جارہے ہیں، اس لئے مدینہ کے مسلمان اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار رہیں گے اور سارے کے سارے مر جائیں گے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دیں گے۔لیکن اگر مدینہ سے باہر نکل کر کسی اور مقام پر لڑائی ہوئی تو چونکہ مدینہ ایک گاؤں ہے اور گاؤں کے رہنے والے سارے ملک کا مقابلہ نہیں کر سکتے ، اس لئے ہم مدینہ سے باہر لڑائی کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔غرض معاہدہ ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے۔جب آپ مدینہ چلے گئے تو وہی ہوا، جس کا حضرت عباس کو خطرہ تھا۔ادھر آپ مدینہ پہنچے اور ادھر مکہ والوں نے انہیں کہنا شروع کر دیا کہ کم بختو تم بڑے بے ایمان ہو گئے ہو، یہ شخص تمہارے بتوں کی بہتک کرتا ہے، تمہارے باپ دادا کو جھوٹا 236