تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 238

خطبہ جمعہ فرمود و 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم یہ وسلم اور آپ کے ساتھی مدینہ میں ہی بیٹھے ہیں۔اس سے لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق تحقیر اور تذلیل کے خیالات پیدا ہوں گے اور ہمارا ان لوگوں میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ شام سے جو تجارتی قافلہ آرہا تھا، وہ تو نکل گیا ہے۔اب دشمن کا لشکر اس طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے، بتاؤ اب تمہاری کیا تجویز ہے؟ کیا ہم پیچھے ہٹ جائیں یا ان لوگوں کا مقابلہ کریں؟ اس پر ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوتا اور کہتا یا رسول اللہ پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم دشمن سے لڑیں ورنہ وہ دلیر ہو جائے گا اور لوگوں میں فخر کرے گا کہ وہ باہر بھی آیا مگر مسلمان اس کے مقابلہ کے لئے نہ نکل سکے۔مگر تقریر کرنے کے بعد جب بھی کوئی مہاجر بیٹھتا ، آپ فرماتے ، اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔اس پر پھر کوئی مہاجر صحابی کھڑا ہوتا اور کہتا یا رسول اللہ مقابلہ کیجیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔مگر جب وہ بیٹھ جاتا تو آپ پھر فرماتے ، اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔جب یکے بعد دیگرے کئی مہاجر اپنا مشورہ دے چکے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہاجر کی تقریر کے بعد یہی فرماتے کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔تو ایک انصاری کھڑے ہوئے۔اس وقت تک انصار کا گروہ خاموش بیٹھا ہوا تھا۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔تو انصار نے سمجھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہم سے ہے، ورنہ مہاجرین تو مشورہ دے ہی رہے ہیں۔چنانچہ ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مشورہ تو آپ کو دیا جا رہا ہے، مگر آپ جو بار بار فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے کہ مہاجر تو بول رہے ہیں، انصار کیوں نہیں بولتے ؟ یا رسول اللہ ہم تو اس لئے چپ تھے کہ وہ لشکر جو مکہ کی طرف سے آیا ہے، اس میں ان مہاجرین کا کوئی باپ ہے، کوئی بیٹا ہے، کوئی بھائی ہے اور کوئی اور عزیز ہے۔ہم اس شرم کے مارے نہیں بولتے تھے کہ اگر ہم نے کہا مقابلہ کریں تو مہاجرین یہ سمجھیں گے کہ یہ ہمارے ماں باپ اور بھائیوں اور بیٹوں کو مارنا چاہتے ہیں۔پس ہماری خاموشی کی اصل وجہ یہ تھی۔پھر اس نے کہا یا رسول اللہ آپ جو ہم سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ بولو تو شاید آپ کا اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے، جو آپ کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے ہم نے کیا تھا اور جس میں ہم نے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر مدینہ پر کسی دشمن نے حملہ کیا تو ہم اپنی جانیں دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کرنا پڑا تو ہم اس میں شریک ہونے کہ پابند نہیں ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔( اب دیکھو، وہاں ایک معاہدہ ہو چکا تھا۔مگر میں نے تو تمہارے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔میرا اصرف ایک اعلان تھا، یہ نہیں کہ میرے اور تمہارے 238