تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 235
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم بات کو سمجھ لیتے ہیں۔اسی طرح اس لطیفہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب انسان کے اندر لوگوں کی خیر خواہی کا احساس ہو اور ان کی محبت موجزن ہو تو وہ ان کی محبت میں یہ نہیں دیکھا کرتا کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں یا نہیں بلکہ وہ اپنی قربانی پیش کر دیتا ہے۔یہ نکتہ ہے، جو اس لطیفہ میں بیان کیا گیا ہے۔ورنہ ایک چھوٹے سے جانور نے بھاری آسمان کو اپنی ٹانگوں پر کیا اٹھانا ہے؟ اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ اس کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔وہ اپنی ٹانگیں اٹھا دیتا ہے تا کہ اگر آسمان گرے تو ان پر گرے، لوگ اس سے تباہ نہ ہوں۔اس لطیفہ کا مقصد کسی جانور کا قصہ بیان کرنا نہیں بلکہ یہ مقصد ہے کہ انسانوں میں سے ہر وہ انسان، جس کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت ہوتی ہے ، وہ اپنی قربانی پیش کر دیتا ہے۔چاہے اس کا کچھ بھی نتیجہ ہو۔ہمیں بھی اسلام کی محبت کا دعویٰ ہے۔ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے قائم ہی اس لئے کیا ہے کہ وہ اسلام کو پھر اس کی بنیادوں پر مضبوطی سے قائم کر دے اور کفر کو شکست دے۔پس ہمارے لئے یہ سوال ہی نہیں ہونا چاہیے کہ ہمیں دین کی خدمت کے لئے کوئی بلاتا ہے یا نہیں؟ بے شک اس وقت ایک نظام خدا تعالیٰ نے تم کو دے دیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر میں کسی معاملہ میں نہ بھی بلاؤں اور تمہیں نظر آتا ہو کہ وہ دین کی خدمت کا کام ہے تو تمہارا فرض ہے کہ وہ کام کرو۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض بلانے پر بھی نہیں بولتے بلکہ ان کے سامنے ہر وقت یہی سوال رہتا ہے کہ دیکھئے سرکار اس میں شرط یہ لکھی نہیں وہ کہتے ہیں پہلے تین سال کہا تھا، پھر دس سال کر دئیے ، اب 19 سال کر دیئے گئے ہیں۔مگر میں تمہیں کہتا ہوں کہ انیس سالوں کا بھی کیا ہے، اگر ہزار سال تمہاری عمر ہو تو اگر تم عاشق صادق ہو تو یہ کام تم کو ہزار سال کر کے بھی تھوڑا نظر آنا چاہیے۔تم سے پہلوں کے ساتھ بھی بعض معین وعدے کئے گئے تھے مگر انہوں نے تین یا دس کی پروا نہیں کی۔انہوں نے سمجھا یہ تین اور دس اور انہیں تو ہمارے فائدہ کے لئے ہیں۔یہ فائدہ جتنا بھی بڑھتا چلا جائے ، ہمارے دل میں اتنی ہی خوشی پیدا ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں کو جب مکہ والے متواتر دکھ دیتے چلے گئے اور انہوں نے اسلام کے مٹانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے چند لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرما دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نصیحت فرمائی کہ مدینہ میں تبلیغ کے ذریعہ اپنی تعداد کو بڑھانے کی کوشش کرو۔چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر وہ بہت 235