تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 194

اقتباس از خطبه جمعه فرمود 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم دوست ایسے دیکھے ہیں، جو ایک، ایک ماہ یا دو، دو ماہ کی آمد بطور چندہ دیتے ہیں۔ایسے لوگ تو چندہ دیں گے ہی لیکن کمزور لوگ پیچھے رہ جائیں گے۔وہ ڈریں گے کہ پچھلے سالوں کے بقائے کس طرح ادا کریں گے؟ قربانی کرنے کی عادت ہمیشہ آہستہ آہستہ پڑتی ہے۔پس تحریک جدید میں شامل ہونے کے لئے ابتداء میں پانچ روپے کا وعدہ ہوسکتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ شرط یہ ہوگی کہ وعدہ لکھوانے والا اپنی ماہوار آمد بھی لکھوائے۔اور کوشش کی جائے کہ کوئی احمدی ایسا نہ رہے، جس نے تحریک جدید میں حصہ نہ لیا ہو۔تا ساری جماعت فخر کے ساتھ کہہ سکے کہ اسلام کا جھنڈ ابلند کرنے میں اس کا ہر فرد شامل ہے۔مگر دفتر اول والی شرائط ان پر بھی چسپاں ہوں گی۔یعنی جو لوگ پہلے سے وعدہ کرتے آئے ہیں، ان میں سے جولوگ وعدہ ادا کر چکے ہیں، ان کے وعدے قبول کئے جائیں گے، دوسروں کے نہیں۔ہاں اگر کسی کے ذمہ ہیں فی صدی بقایا ہے تو ہم اس پر اعتبار کریں گے اور اس کا آئندہ وعدہ قبول کر لیں گے۔لیکن باقی لوگوں کو وعدہ کرتے وقت تحریری طور پر یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ آئندہ اپریل کے آخر تک کل سابقہ بقایا ادا کر دے گا۔اور 30 نومبر 51 ء تک نئے سال کا وعدہ بھی ادا کر دے گا۔اگر وہ گذشتہ سالوں کے بقائے اور اس سال کے وعدے ادا نہ کریں تو بے شک انہیں اس فوج سے، جو مجاہدین اسلام کی فوج ہے، نکال دیا جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ نئی شرطوں کے ساتھ ہر احمدی کے لئے تحریک جدید میں حصہ لینا آسان ہو جائے گا۔پہلے سال اگر کوئی پانچ روپے چندہ لکھاتا ہے تو دفتر کا فرض ہے کہ وہ اتنا چندہ لکھ لے۔اگر خدا تعالیٰ اس کے ایمان کو مزید تقویت دے گا تو وہ اور چندہ لکھوائے گا۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگوں نے دفتر اول میں پہلے سال پانچ، پانچ روپے کے وعدے لکھائے تھے اور اب ان کے وعدے سینکڑوں روپے تک پہنچ گئے ہیں۔کیونکہ ان کا اخلاص پہلے کی نسبت بڑھ گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مدینہ لے جانے والے انصار کا آپ سے جو معاہدہ ہوا تھا اور جس میں حضرت عباس بھی شریک تھے، وہ معاہدہ یہ تھا کہ اگر دشمن نے مدینہ پر حملہ کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچانا چاہا تو انصار اپنی جان و مال قربان کر کے دفاع کریں گے۔لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ ہوئی تو انصار پر دفاع کی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔جب بدر کا موقع آیا اور مسلمانوں کا لشکر باہر گیا تو خیال تھا کہ ان کا مقابلہ یا تو تجارتی قافلہ سے ہوگا اور یا پھر مکہ سے آنے والے لشکر سے ان کی لڑائی ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یا بتایا گیا تھا کہ مقابلہ لشکر سے ہے، مگر ساتھ ہی یہ اشارہ کیا گیا کہ ان لوگوں کو ابھی بتانا نہیں کہ لڑائی مکہ سے آنے والے لشکر سے ہوگی۔194