تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 195
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1950ء جس طرح میرے منہ سے خدا تعالیٰ نے پہلے دس سال نکلوائے ، پھر انہیں ہو گئے ، اسی طرح بدر کے مقام پر پہنچ کر یہ پتہ لگا کہ قافلہ تو نکل چکا ہے، اب مکہ سے آنے والے لشکر سے ہی مسلمانوں کی لڑائی ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کو بلایا اور فرمایا کہ قافلہ نکل چکا ہے، اب لڑائی مکہ سے آنے والے لشکر کے ساتھ ہو گی۔آپ لوگ مجھے اس بارہ میں مشورہ دیں۔مہاجرین نے مشورے دینے شروع کئے لیکن انصار خاموش رہے۔آپ نے پھر فرمایا، اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔اس پر اور مہاجرین اٹھے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس طرح ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوتا اور وہ کہتا ، یا رسول اللہ ! ہم تو مکہ والوں کی شرارتوں سے تنگ آگئے ہیں۔مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں بھی وہ آرام سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ہم قافلہ سے بھی لڑنے کے لئے آئے تھے، اب اگر دوسر الشکر بھی آ گیا ہے تو اس سے بھی ہمیں لڑنا چاہئے۔لیکن ہر ایک کا جواب سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہی فرماتے ، اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔اس پر ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا، یارسول اللہ ! آپ کی مراد شاید انصار سے ہے۔کیونکہ مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے لیکن پھر بھی آپ بار بار مشورہ طلب کر رہے ہیں۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! ہم تو اس لئے خاموش بیٹھے تھے کہ حملہ آور لشکر مہاجرین کا رشتہ دار ہے۔اگر ہم نے لڑائی کا مشورہ دیا تو مہاجرین کا دل دکھے گا اور وہ کہیں گے کہ اچھا بھائی چارہ ہے کہ اب یہ ہمارے رشتہ داروں سے بھی لڑنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔پھر انہوں نے کہا ، یارسول اللہ ! شاید آر اس لئے مشورہ مانگ رہے ہیں کہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ ہوئی تو ہم حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔شاید آپ کا اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، ٹھیک ہے۔اس انصاری نے کہا، یا رسول اللہ ! وہ وقت تو ایسا تھا کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ آپ کی حیثیت اور شان کیا ہے؟ اور چونکہ ہم آپ کی حیثیت اور شان سے نا واقف تھے، اس لئے ہم نے وہ معاہدہ کیا۔یا رسول اللہ ! آپ مدینہ تشریف لائے اور آپ کے نشانات اور معجزات ہم نے دیکھے، آپ کی صداقت ہم پر ظاہر ہوئی اور ہم نے آپ کے مرتبہ اور شان کو پہچان لیا۔اب معاہدوں کا سوال نہیں رہا، یا رسول اللہ ! ہم موسی کے ساتھیوں کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ کہ موسیٰ تو اور تیرا رب جاؤ اور دشمن سے جنگ کرتے پھر و، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم آپ 195