تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 193
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1950ء چاہے ہم گذشتہ وعدے پر ایک پیسہ یا روپیہ ہی بڑھاؤ ، ضرور بڑھاؤ کم عقلی سمجھتا ہوں کہ کوئی س اپنا وعدہ اتنا بڑھا دے کہ وہ ادا بھی نہ کر سکے۔یہ اخلاص نہیں ، نیو ستھینیا کی ایک قسم ہے۔لیکن اس لئے کہ تمہارا قدم ہمیشہ آگے رہے، ہم گذشتہ وعدہ پر ایک پیسہ یا روپیہ ہی بڑھا دو تو یہ کوئی بوجھ نہیں۔قدم آگے رکھنا مومن کی علامت ہے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وعدے وہی لوگ لکھوا سکتے ہیں، جنہوں نے گذشتہ سال کے وعدے سو فیصدی پورے کر دیئے ہیں۔جن لوگوں نے گذشتہ سال کے وعدے پورے نہیں کئے ، ان میں سے وہی لوگ وعدے بھجوا سکتے ہیں، جن کے ذمہ ہیں فیصدی سے زیادہ گذشتہ سالوں کا بقایا نہ ہو۔اور جن لوگوں کے ذمے میں فیصدی سے زیادہ رقم بقایا ہو گی ، ان سے وعدے اسی صورت میں لئے جائیں گے جب وہ وعدے کے ساتھ یہ پختہ عہد لکھ کر بھیجیں کہ وہ اپریل 1951 ء تک اپنا سب بقایا سو فیصدی پورا کر دیں گے اور سترھویں سال کا وعدہ 30 نومبر تک پورا کر دیں گے۔اور اگر اس تحریر کے ساتھ اپنا وعدہ نہیں بھیجیں گے تو وہ قبول نہیں کئے جائیں گے۔بھارت اور مشرقی پاکستان کے وعدے 10 اپریل تک لئے جائیں گے اور ہندوستان و پاکستان سے باہر کے وعدے 10 جون تک وصول کئے جائیں گے۔تحریک جدید دفتر دوم سال ہفتم کا بھی میں اس کے ساتھ ہی اعلان کرتا ہوں اور نو جوانوں سے کہتا ہوں، ابھی وعدوں میں بہت کمی ہے۔پہلے لوگوں نے وعدوں کو تین لاکھ تک پہنچایا تھا نئی پود کو اس سے بھی اوپر جانا چاہئے۔لیکن اس میں بعض وقتیں بیان کی گئی ہیں۔ان کو سمجھتے ہوئے میں قواعد میں تبدیلی کر دیتا ہوں۔تحریک جدید دفتر دوم میں شامل ہونے کے لئے پہلے یہ شرط تھی کہ حصہ لینے والا پچھلا بقایا بھی ادا کرے۔آئندہ کے لئے میں یہ ترمیم کر دیتا ہوں کہ یہ تحریک 19 سال کی ہے۔گوجیسا کہ میں نے بتایا ہے، تمہیں اس پر بھی اعتراض ہونا چاہئے کہ صرف اتنے سال کے لئے کیوں ہے؟ بہر حال جس سال بھی کوئی تحریک جدید دفتر دوم میں شامل ہوگا، اس کا وہی پہلا سال شمار ہوگا۔مثلاً جو شخص اس سال تحریک جدید میں شامل ہوتا ہے، اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ پہلے سالوں کا بقایا بھی ادا کرے۔اس کا یہ سال پہلا سال شمار ہو گا۔اس کے بعد اسے 19 سال تک چندہ دینا ہو گا۔مگر اس میں نابالغی کے سال شامل نہ ہوں گے، وہ زائد ہوں گے۔دوسری تبدیلی میں یہ کرتا ہوں کہ دفتر اول کی طرح دفتر دوم کی بھی یہی شرط ہو گی کہ حصہ لینے والا پانچ دس یا ہیں روپے کی شکل میں چندہ دے یہ کہ حصہ لینے والا اپنی آمد کا نصف، تیسرا یا چوتھا حصہ دے، میں اس شرط کو اڑا تا ہوں۔مخلصین آپ ہی آپ زیادہ چندہ دیں گے۔دفتر اول میں، میں نے بعض 193