تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 192

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم قادیان کے ساتھ واقعی محبت، انس اور محبت ہے تو تمہیں قربانیاں دینی پڑیں گی۔اور قربانی کے بعد قربانی دینی پڑے گی۔اگر کوئی قربانی سے گریز کرتا ہے تو چاہے وہ منہ سے نہ کہے، وہ اپنے عمل سے کہتا ہے۔فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ جاؤ ، اے محمد ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) ہم لڑنے کے لئے تیار نہیں تم اور تمہارا رب دونوں لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں، دنیا کے ہر گوشے میں ، دنیا کے ہر پردہ پر اور دنیا کی ہر حکومت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم قابل تحقیر بھی جاتی ہے۔تم نے اسے نئے طور پر قائم کرنا ہے۔تم ایک معمولی مکان پر باوجود معمولی حیثیت ہونے کے ہزاروں روپے لگا دیتے ہو لیکن یہاں تم نے ساری دنیا کی عمارت کو گرا کر اسے نئے سرے سے تعمیر کرنا ہے۔پہلے تمہیں اس عمارت کو شمالی کرہ سے لے کر جنوبی کرہ ارض تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک منہدم کرنا ہوگا اور انہدام پر بھی بڑا خرچ ہوگا اور پھر اسے دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا اور تعمیر پر بڑا خرچ ہوگا۔تم یہ کس طرح امید کر سکتے ہو کہ تم اپنی انتہائی قربانی کے ساتھ انیس سال میں اس عمارت کی بنیاد بھی رکھ سکو گے؟ میں تو سمجھتا ہوں، ابھی پاکستان اور بھارت میں بھی تبلیغ کی بہت ضرورت ہے۔اور صدرانجمن احمد یہ اس میں کوتاہی سے کام لے رہی ہے اور وہ نئے مبلغ نہیں رکھ رہی۔پچھلے دس سالوں میں اس نے ایک نیا مبلغ بھی نہیں رکھا۔ایک دفعہ جب میں نے پوچھا تو پاکستان کے مبلغ انہوں نے بڑے زور کے ساتھ آٹھ ، دس تک بتائے۔آٹھ کروڑ کی آبادی میں صرف آٹھ نو مبلغ رکھنے کے کوئی معنی ہی نہیں۔بھارت کے مبلغوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو وہ کل چودہ مبلغ بنتے ہیں۔یعنی ایک مبلغ تین کروڑ افراد کے لئے رکھا ہوا ہے۔اگر اس مبلغ کا ذرہ ذرہ کر کے ایٹم بنایا جائے اور پھر الیکٹران بنائے جائیں تو مبلغ کا ایک ایک الیکڑان ایک ایک آدمی کے حصہ میں بھی نہیں آئے گا۔غرض باہر کے لوگ تو الگ رہے، یہاں پاکستان اور ہندوستان میں بھی مبلغوں کی ضرورت ہے اور یہاں بھی لٹریچر پھیلانے کی ضرورت ہے۔بہر حال اس تمہید کے ساتھ میں سترھویں سال کے وعدوں کے لئے اعلان کرتا ہوں اور اس کے ساتھ یہ باتیں بھی بیان کر دیتا ہوں کہ وعدہ بھیجنے کا آخری وقت دس فروری ہوگا۔مغربی پاکستان کے جو وعدے دس فروری تک آجائیں گے، وہ قبول کر لئے جائیں گے۔لیکن بجٹ کے بنانے کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ وعدے دسمبر تک پہنچ جائیں۔تمام جماعتوں کو چاہئے کہ وہ کوشش کریں کہ جلسہ سے پہلے یا جلسہ کے ایام میں آکر اپنے وعدے دے دیں۔الا ماشاء الله۔پھر میں مخلصین سے کہوں گا کہ 192