تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 168
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 ستمبر 1950ء سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ بلند ہوئی ہے، پوری قوت کے ساتھ دوسرے ممالک میں پھیلانے والا ہے۔سال بھر سے امریکہ سے مطالبہ ہے کہ امریکہ، جو ہندوستان سے رقبہ میں بہت بڑا ہے، اس میں اور مبلغ بھجوائے جائیں۔اس کے صرف جنوب مشرق میں کچھ مشن ہیں۔لیکن شمال مغرب، وسط امریکہ، جنوب مغرب اور شمال مشرق کے علاقے بالکل خالی ہیں۔اور وہاں کے لوگوں میں، جن کے پاس ہمارا لٹر پچر پہنچتا ہے، یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ جماعت کے مشن ہمارے ملکوں میں بھی کھولے جائیں۔لیکن جبکہ ہم ان مبلغوں کو بھی خرچ نہ بھجواسکیں ، جو اس وقت باہر کام کر رہے ہیں تو یہ ظاہر بات ہے کہ ہم نئے مشن نہیں کھول سکتے۔بلکہ چالیس فیصدی چندہ کی وصولی کے یہ معنی ہیں کہ ہمیں اپنے ساٹھ فیصدی مشن بند کر دینے چاہئیں۔یعنی بجائے اس کے کہ امریکہ میں ہم پانچ سات اور مشن کھول دیں ، جیسا کہ ان کا اصرار ہے کہ مرکز کو چھ ، سات نئے مشن اس ملک میں فوری طور پر کھول دینے چاہئیں۔ہمیں چاہئے کہ امریکہ کے چار مشنوں میں سے کم سے کم دو بند کر دیں۔یورپین ممالک میں اس وقت ہمارے سات مشن کام کر رہے ہیں۔یعنی ہالینڈ میں ایک انگلینڈ میں دو، جرمنی میں ایک، سوئٹزر لینڈ میں ایک فرانس میں ایک پین میں ایک۔اب بجائے اس کے کہ یہ وسیع ممالک، جو چالیس چالیس، پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ بلکہ اسی اسی ہزار مربع میل کے علاقہ میں پھیلے ہوئے ہیں، ان میں ہم آہستہ آہستہ ایک ایک کی بجائے دو دو یا تین تین مشن کھول دیں، ہمیں چاہئے کہ سارے یورپ کے سات مشنوں میں سے چار کو بند کر دیں۔ہمارے ایسٹ اور ویسٹ افریقہ میں اس وقت ساٹھ ستر مشن ہیں۔لیکن چندہ کی موجودہ حالت ایسی ہے کہ بجائے اس کے کہ ان ممالک میں ہم اپنے کام کی رفتار کو تیز کریں، جیسا کہ ایسٹ اور ویسٹ افریقہ کے قدیمی باشندوں میں احمدیت خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ مقبول ہورہی ہے۔اور بجائے اس کے کہ ہم اپنے ساتھ بستر مشنوں کو ڈیڑھ سو بنا دیں ہمیں چاہئے کہ ان میں سے چالیس، پنتالیس مشن بند کر دیں۔پھر اس وقت ہمارے دو بیر ونجات کے مبلغ اپنی زندگی وقف کر کے آئے ہوئے ہیں اور سات ، آٹھ امریکن دوستوں کی ان کے علاوہ درخواستیں آئی ہوئی ہیں کہ ہمارے آدمی بھی دینی تعلیم کے حصول کے لئے وہاں آنا چاہتے ہیں۔اب بجائے اس کے کہ اس تعداد کو بڑھا کر ہم آٹھ ، دس ملکوں کے نمائندوں کو بلائیں، ہمیں چاہیے کہ آئندہ یہ سلسلہ بالکل بند کر دیں۔گویاوہی ایک چیز جس کے متعلق دشمن بھی اقرار کرتا ہے کہ اس میں وہ جماعت احمدیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اسی کو ہم ہاتھ سے ضائع کر دیں۔جہاں ہماری دین داری کا سوال آتا ہے، دشمن اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے تم کہتے ہو، احمدی نیک ہوتے ہیں۔میرے ہمسایہ میں تو فلاں احمدی رہتا ہے، جو جھوٹ بولتا 168