تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 169

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 ستمبر 1950ء ہے، فلاں احمدی رشوت لیتا ہے یا فلاں احمدی ظلم کرتا ہے۔اسی طرح وہ ہزاروں قسم کے اعتراض کرنے لگ جاتا ہے۔ہماری جماعت کی ملکی خدمات پر بھی اس کو بہت کچھ اعتراض ہوتے ہیں۔چاہے ہماری خدمات کتنی ہی بے غرضانہ ہوں، دشمن ہم پر اعتراض کرنے سے نہیں رکتا۔مثلاً وہ یہی کہہ دے گا کہ یہ لوگ پاکستان کے مخالف اور غدار ہیں۔مگر جس چیز پر آکر ایک شدید ترین دشمن بھی چپ کر جاتا ہے، وہ بیرونی ممالک کی تبلیغ ہے۔اس مقام پر شدید ترین عنادر رکھنے والوں کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جماعت احمد یہ بہت بڑا کام کر رہی ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے ، فوجیوں کی ایک دعوت چائے کے موقع پر گفتگو شروع ہوئی تو ایک شخص نے نامناسب اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔مگر بات کرتے ہوئے ، جب بیرونی ممالک کی تبلیغ کا ذکر آیا تو وہ کہنے لگا کہ اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ تبلیغ آپ لوگ ہی کر رہے ہیں۔گویا ایک ہی چیز ، جو جماعت کی عزت اور اس کے وقار کو قائم رکھے ہوئے ہیں، آپ لوگوں کی ستی اور غفلت کی وجہ سے یا تو اسے بند کرنا پڑے گا اور یا پھر فیصلہ کرنا پڑے گا کہ جماعت کے اہم کاموں میں بھی جو لوگ دلچسپی نہیں رکھتے ، ان کو الگ کر دیا جائے۔کیونکہ ایک طرف یہ دعویٰ کرنا کہ جماعت بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف یہ کہنا کہ ہم اپنے کچھ مشنوں کو بند کر رہے ہیں، اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم بے ایمان ہورہے ہیں۔لیکن اگر ہم دشمن کو کہیں کہ ہم نے اپنی آدھی جماعت نکال دی ہے تو وہ مشنوں کے کم ہونے پر اعتراض نہیں کر سکتا۔کیونکہ وہ کہے گا کہ جب آپ کی جماعت کم ہو گئی ہے تو مشن بھی لازماً کم ہونے تھے۔لیکن ایک طرف یہ کہنا کہ جماعت بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف یہ کہنا کہ کام گھٹ رہا ہے، اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔پس میں جماعت کو ایک دفعہ پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے۔مجھے معلوم نہیں کہ جماعت کراچی کس حد تک تحریک جدید کے وعدوں کو پورا کر رہی ہے؟ جہاں تک نئے نو جوانوں کا تعلق ہے، میں دیکھتا ہوں کہ ان کی حالت بہت زیادہ افسوسناک ہے۔چھٹے سال کے وعدے ایک لاکھ بیس ہزار کے تھے مگر اس میں سے صرف 43 فی صدی وصولی ہوئی ہے۔حالانکہ نو جوانوں میں اخلاص اور قربانی کی روح پہلوں سے زیادہ ہونی چاہئے۔کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، جب تک اس کے نوجوان پہلوں سے زیادہ قربانی کرنے والے نہ ہوں۔پس ایک طرف تو میں آپ لوگوں کو ، جو اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں اور اتفاق کی بات ہے کہ مجھے پہلے یہیں اس بات کے کہنے کا موقع ملا، توجہ دلاتا ہوں کہ اگر تحریک جدید کے وعدوں کے بارہ میں آپ کے اندر غفلت پائی جاتی ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ورنہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان دو کے علاوہ تیسر اعلاج کوئی نہیں۔مجھے کیمیا گری نہیں آتی کہ 169