تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 167
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 ستمبر 1950ء خدائی سلسلوں میں افراد کی نہیں بلکہ صرف اخلاص کی قیمت ہوتی ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1950ء " میں آج جماعت کے دوستوں کو ان کے اس ضروری فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے تبلیغ کے کام کو زیادہ سے زیادہ وسیع کریں۔وہ وقت قریب سے قریب تر آ رہا ہے، جب دنیوی نقطہ نگاہ سے یا تو احمدیت کو اپنی فوقیت ثابت کرنی ہوگی اور یا اس جدو جہد میں فنا ہونا پڑے گا۔اور دینی نقطہ نگاہ سے اور روحانی نقطہ نگاہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ان تغیرات کے رونما ہونے کا وقت آچکا ہے اور آ رہا ہے، جو کہ احمدیت کو ایک لمبے عرصہ تک کے لئے دنیا میں قائم کر دیں گے۔اور اس کا غلبہ اس کے دوستوں اور اس کے مخالفوں سے منوالیں گے۔مگر ان تمام تغیرات کے لئے انسان کی قربانیاں اور انسان کی جدو جہد نہایت ضروری ہوتی ہے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت نے قربانی کا ابھی وہ نمونہ پیش نہیں کیا ، جس نمونہ کے پیش کرنے کے بعد قوم اپنی انتہائی جدوجہد کا مظاہرہ کر دیتی ہے۔پچھلے دو تین سیال سے تحریک جدید کے وعدوں میں ستی ہو رہی ہے اور اس کے ایفاء میں تو نہایت ہی خطرناک غفلت برتی جارہی ہے۔یہ غفلت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب ہم مجبور ہیں کہ یا تو اپنے نصف کے قریب مشن باہر کے بند کر دیں اور یا پھر نصف کے قریب جماعت کے افراد کو اپنی جماعت میں سے نکال دیں۔کیونکہ وہ وعدہ پورا نہیں کر رہے۔ان دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کئے بغیر ہمارا گزارا نہیں چل سکتا۔مثلاً اسی سولہویں سال کے وعدے قریباً دولاکھ ، اسی ہزار کے تھے۔اعلان دسمبر کے قریب ہوتا ہے۔دسمبر سے اگست تک نو مہینے ہوئے اور اب ستمبر کا مہینہ بھی نصف گزر چکا ہے۔گویا بارہ میں سے ساڑے نو مہینے گزر چکے ہیں اور سال کے پورا ہونے میں صرف اڑھائی مہینے باقی رہ گئے ہیں۔لیکن جماعت کی غفلت کی یہ حالت ہے کہ دو لاکھ ، اسی ہزار کے وعدوں میں سے صرف ایک لاکھ، میں ہزار وصول ہوا ہے۔گویا ساڑھے نو مہینہ میں چالیس فی صدی رقم وصول ہوئی ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک سال کا چندہ اڑھائی سال میں جا کر وصول ہو۔ادھر یہ حالت ہے کہ بیرونی جماعتیں اور بیرونی ممالک اصرار کے ساتھ نئے مبلغ مانگ رہے ہیں اور لوگوں میں سلسلہ کی طرف اس قسم کی توجہ پیدا ہو رہی ہے کہ معلوم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ جلد ہی اس آواز کو جو حضرت 167