تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 158
اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 12 مئی 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہوئی۔حالانکہ جو الہامی سلسلے ہوتے ہیں، ان میں افراد کو نہیں دیکھا جاتا ، کام کو دیکھا جاتا ہے۔جب مرکز کی طرف سے کوئی تحریک ہو تو خواہ وہ چھوٹے سے چھوٹے کارکن کی طرف سے ہی ہو ، مرکزی ہی سمجھی جائے گی اور اسے وہی اہمیت حاصل ہو گی ، جو کسی مرکزی تحریک کو حاصل ہوتی ہے۔کیونکہ سارے کام ایک ہی آدمی نہیں کر سکتا اور نہ ہی ساری دنیا کو ایک آدمی سے عقیدت ہوسکتی ہے۔مثلاً اگر ہر کام خلیفہ ہی کرے تو وہ اسلام کی طاقت کا موجب نہیں ہوگا بلکہ اسلام کی کمزوری کا موجب ہوگا اور یہ چیز شرعاً نا جائز ہے۔یہ تحریک کسی فرد کی طرف سے نہیں کئی گئی ، جماعت کی طرف سے کی گئی تھی اور چاہئے تھا کہ دوست یہ نہ دیکھتے کہ یہ تحریک میں نے کی ہے، کسی ناظر ، وکیل، نائب وکیل یا کسی اور نے کی ہے بلکہ وہ اس کی اہمیت کو دیکھتے اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ، اس میں حصہ لیتے۔امریکہ وہ ملک ہے، جو کھربوں میں کھیل رہا ہے۔اس کے لئے جو جگہ خریدی گئی ہے، وہ سوالاکھ روپیہ کی ہے اور پچیس ہزار ابھی اور اس پر خرچ ہو گا۔در حقیقت یہ عمارت بھی وہاں کی عظمت کے لحاظ سے چھوٹی ہے۔ان پر اثر ڈالنے کے لئے تو ہیں، پچیس لاکھ روپیہ کی عمارت چاہئے تھی۔لیکن موجودہ حالات میں صرف ڈیڑھ لاکھ پر ہی کفایت کی گئی ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بتایا ہے کہ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر یہ عمارت دولاکھ روپیہ کی بھی مل جائے تو اسے ستی سمجھنا چاہئے۔لیکن ہمیں وہ ایک لاکھ، بیس ہزار روپیہ میں مل گئی ہے اور اس پر فرش کرنے اور قانونی طور پر بعض اصلاحیں مہیا کرنے پر پندرہ ، ہیں ہزار اور خرچ ہو چکا ہے اور کل خرچ ایک لاکھ، پچاس ہزار کے قریب ہوگا۔واشنگٹن ایک اہم مقام ہے، جہاں یہ مکان احمدیت کی ترقی اور اس کی اشاعت میں مفید ہو سکتا ہے۔چونکہ امریکہ کو باقی ممالک پر ایک فوقیت حاصل ہے، اگر اس میں احمدیت پھیل جائے تو اس مکان کے ذریعہ سے دوسرے ممالک پر بھی احمدیت کا اثر پڑے گا اور امریکہ کے احمدیوں کے ذریعہ سے دوسرے ممالک میں احمدیت کو نفوذ اور اثر حاصل ہوگا۔دوسری تحریک مسجد ہالینڈ کے لئے چندہ کی ہے۔کہتے ہیں عورتوں کے پاس پیسہ نہیں ہوتا۔لیکن شاید ان کا دل بڑا ہوتا ہے۔مردوں نے ڈیڑھ لاکھ روپیدا کٹھا کرنا ہے اور اس وقت تک صرف پونے بارہ ہزار کے وعدے ہوتے ہیں اور عورتوں نے ساٹھ ہزار روپیہ جمع کرنا ہے مگر اس وقت تک ان کے پونے سترہ ہزار کے وعدے ہیں۔گویا عورتوں کے وعدے مردوں سے ڈیڑھ گنا ہیں۔میرے پاس جو چندہ کی رپورٹیں آتی ہیں، ان میں دس میں سے نو جگہیں ایسی ہوتی ہیں، جہاں عورتوں کا چندہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔بہر حال ہالینڈ کو بھی یہ فوقیت حاصل ہے کہ انڈونیشیا آزاد ہو گیا ہے۔پس اب ان دونوں ملکوں کی 158