تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 159

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 12 مئی 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم آپس میں دوستی کے تعلقات بڑھتے جائیں گے اور ڈچ کامن ویلتھ میں انڈونیشیا کے شامل ہونے کی وجہ سے چونکہ مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہوگی، اس لئے ڈچ مسلمانوں کی طرف مائل ہوں گے۔اور ممکن ہے کہ ہالینڈ اسلام کا مرکز بن جائے۔اس لئے وہاں کی مسجد بھی ایک اہم مسجد ہے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس چیز کا خیال جانے دیں کہ ان پر کتنے بوجھ ہیں۔وہ ہمیشہ بوجھ کے نیچے رہیں گے۔دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں رہا، جس پر کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔جس انسان پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا ، وہ خود بوجھ بنالیا کرتا ہے۔مثلاً امیر لوگ ہیں، وہ یہی بوجھ بنا لیتے ہیں کہ کہیں ڈا کہ نہ پڑ جائے اور وہ لٹ نہ جائیں۔پس بوجھ سے مت ڈرو بلکہ یہ دیکھو کہ تمہاری زندگیوں میں کتنے بڑے کام سرانجام پا جاتے ہیں۔تم اپنی اس مختصر زندگی میں اور پھر اس سے بھی زیادہ مختصر دولت اور اقتصاد میں اگر کوئی عظیم الشان کام کر جاتے ہو تو تمہاری زندگی ناکام زندگی نہیں ہوتی۔بلکہ تمہاری زندگی کامیاب زندگی ہوتی ہے، جس پر بڑے بڑے لوگ، جن کو بظاہر دولت اور اقتصاد حاصل ہوتا ہے، حسد کرتے ہیں یا رشک کرتے ہیں اور یا قتل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔( مطبوعه روز نامہ الفضل 18 مئی 1950ء) 159