تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 157
اقتباس از خطبه جمعه فرمود ه 12 مئی 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں بھیجا ہے۔مسٹر رشید احمد یہاں ہیں اور سینٹ لوئیس سے بھی مجھے خط آیا ہے کہ ایک نوجوان یہاں آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔اسی طرح سفید لوگوں میں سے بھی ایک عورت نے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ہمارے نزدیک تو سفید اور سیاہ سب برابر ہیں لیکن امریکہ میں ان میں ایک حد تک امتیاز اب تک برتا جاتا ہے۔میں نے اس عورت کو فی الحال یہاں آنے سے روک دیا ہے۔یہ چار ملک ہو گئے۔عربی ممالک میں بے شک ہمیں اس قسم کی اہمیت حاصل نہیں ، جیسی ان ممالک میں حاصل ہے۔لیکن پھر بھی ایک طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہوگئی ہے اور وہ یہ کہ فلسطین میں عین مرکز میں اگر مسلمان رہے ہیں تو وہ صرف احمدی ہیں۔بعض ہندوستانی اخبارات جن کو دشمنی کی وجہ سے ہمارا یہ کام قابل اعتراض نظر آیا ہے، لکھتے ہیں کہ اگر انہیں فلسطین سے یہودیوں نے نہیں نکالا تو ضرور یہ یہود سے ملے ہوئے ہیں۔جیسے ہم جب قادیان میں جم کر مقابلہ کر رہے تھے تو سب لوگ ہماری تعریفیں کرتے تھے۔لیکن اب کہتے ہیں کہ چونکہ احمدی ابھی تک قادیان میں بیٹھے ہیں، انہیں ہندوستان سے ضرور کوئی تعلق ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ دولاکھ کے قریب عرب ابھی مقبوضہ فلسطین میں ہیں۔مگر جو فوقیت ہمیں حاصل ہے، وہ یہ ہے کہ ہم عین مرکز میں موجود ہیں۔جیسے بھارت میں ابھی چار کروڑ مسلمان پائے جاتے ہیں لیکن ہمیں جو فوقیت حاصل ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اس مرکز میں موجود ہیں، جہاں دوسرے مسلمان نہیں پائے جاتے۔دوسرے شام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض الہاموں سے پتہ چلتا ہے کہ احمدیت کے دور میں وہ خصوصیت حاصل کرے گا۔ان سب ممالک میں ہم نے احمدیت کا دائرہ وسیع اور منظم کرنا ہے۔ان میں سے افریقہ میں جماعت سب سے زیادہ ہے اور ایسٹ افریقہ اور ویسٹ افریقہ دونوں کو ملا کر ایک لاکھ کے قریب جماعت ہو جاتی ہے۔اور پھر ان میں سرعت کے ساتھ احمدیت بڑھ رہی ہے اور درجن کے قریب ہمارے مبلغ کام کر رہے ہیں بلکہ اگر مقامی مبلغوں اور معلموں کو ملا لیا جائے تو وہاں 50-60 سے زائد مبلغ کام کر رہے ہیں۔امریکہ میں اس وقت چار مبلغ کام کر رہے ہیں مگر ابھی تک امریکہ کے مرکز میں مسجد نہیں بنی تھی۔اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن ، جو امریکہ کا دارالحکومت ہے، وہاں مسجد بنائی جائے۔بلکہ ایک مکان سوالاکھ روپیہ کا خرید لیا گیا ہے۔اس کے لئے دوماہ سے جماعت میں چندہ کی تحریک ہو رہی ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میری طرف سے تحریک نہیں 157