تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 156
اقتباس از خطبه جمعه فرمود ه 12 مئی 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم مسلمان ہیں لیکن اتنی آبادی نہیں جتنی انڈونیشیا کی ہے۔دوسرے یہ کہ وہ اقلیت کی حالت میں ہیں اور اپنے وجود کو غیر مسلموں سے منوا نہیں سکتے۔انڈونیشیا کو یہ فوقیت بھی حاصل ہے کہ یہ ملک ایشیائیوں کے ماتحت بھی ہے اور اس میں آبادی بڑھنے کے سامان بھی موجود ہیں۔بور نیو کا جزیرہ ہندوستان کے نصف سے بڑا ہے۔لیکن اس کی آبادی صرف 25-30 لاکھ ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کا ایک حصہ ایسے ملک پر قابض ہے کہ وہاں دس پندرہ کروڑ کی آبادی بڑھائی جاسکتی ہے۔یہ فوقیت اور کسی ملک کو حاصل نہیں۔باقی ملک گنجان طور پر آباد ہیں اور ترقی کی گنجائش ان میں موجود نہیں۔پھر انڈونیشیا کا ہالینڈ سے تعلق ہے اور چونکہ وہ چھوٹا سا ملک ہے، انڈونیشیا کے اس کے ساتھ ملنے کی وجہ سے مسلمانوں کی آبادی ڈچ ایمپائر میں بڑھ جاتی ہے اور اس وجہ سے ایک یور چین ایمپائر میں مسلمانوں کا حصہ زیادہ ہو کر مسلمانوں کا سیاسی نفوذ بڑھ جاتا ہے۔چوتھی اہمیت امریکہ کو حاصل ہے۔جو اسے تہذیب اور کمال کے لحاظ سے حاصل ہے۔امریکہ کی لیم ، دولت ، تجارت، صنعت و حرفت ، حکومت اور تہذیب کے لحاظ سے سارے ملکوں میں نمبر اول پر ہے۔پانچویں خصوصیت دنیا کے ملکوں میں سے افریقن قبائل کو حاصل ہے، خصوصا وسطی قبائل کو۔شمالی حصہ پہلے سے مسلمان ہے اور جنوبی حصہ پر بعض مغربی تو میں قابض ہیں۔لیکن وسطی حصہ ابھی تک مقامی لوگوں کے ماتحت ہے اور اس میں اب بیداری کے سامان پیدا ہور ہے ہیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعض پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت چوٹی کے ملکوں میں شامل ہو جائے گا۔یہ پانچ ایسے ملک ہیں، جو دوسرے ممالک پر اہمیت اور خصوصیت رکھتے ہیں۔ان میں سے چار ملک ایسے ہیں، جن میں نمایاں طور پر احمدیت کو خصوصیت حاصل ہے۔مثلاً پاکستان اور ہندوستان میں، جن کو آج کل ایشیا میں سیاسی برتری حاصل ہے، یہاں احمدیت کے مراکز واقع ہیں۔انڈونیشیا ان ابتدائی ممالک میں سے ہے، جہاں احمدیت پھیلی اور پھیل رہی ہے۔افریقہ میں اگر کوئی اسلامی جماعت کام کر رہی ہے یا کسی اسلامی جماعت کو نفوذ اور اثر حاصل ہے تو وہ احمد یہ جماعت ہے۔اور امریکہ میں بھی ہماری جماعت کی تبلیغ ہورہی ہے اور وہاں کے لوگوں کو احمدیت میں صرف داخل ہونے کی توفیق ہی نہیں ملی بلکہ انہیں قربانی کرنے کی بھی توفیق ملی ہے۔یوں تو اتنے بڑے ملک میں چار، پانچ سولوگوں کا احمدی ہو جانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔لیکن جنس دیکھی جاتی ہے ، تعداد کی کمی اور زیادتی کو نہیں دیکھا جاتا۔ہم نے یہ نہیں دیکھنا کہ کتنے لوگوں نے احمدیت قبول کی ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ کتنی قربانی کرنے والے ہیں؟ مثلاً بڑی 156