تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 155

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 12 مئی 1950ء بوجھ سے مت ڈرو بلکہ دیکھو کہ کتنے بڑے کام سرانجام پا جاتے ہیں وو خطبہ جمعہ فرمودہ 12 مئی 1950ء " میں آج نہایت ہی اختصار کے ساتھ جماعت کو ان چندوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں، جن کا اعلان کچھ عرصہ سے وکالت مال کی طرف سے اخبار میں ہو رہا ہے۔یعنی مسجد ہالینڈ اور مسجد واشنگٹن کے لئے چندہ کی تحریک۔دنیا میں ہر زمانہ میں کچھ آبادی کے مرکز ہوا کرتے ہیں اور کچھ تہذیب کے مرکز ہوا کرتے ہیں، اسی طرح کچھ مذہب کے مرکز ہوا کرتے ہیں۔اس زمانہ میں چند اقوام کو دنیا میں خصوصیت حاصل ہے۔ایک تو اس وقت ہندوستان کو فوقیت اور اہمیت حاصل ہے۔یعنی وہ ہندوستان، جس میں پاکستان اور بھارت دونوں شامل ہیں۔بھارت میں احمدیت کا وہ مستقل مرکز موجود ہے، جس کو خدا تعالیٰ نے اسلام کی اشاعت اور ترقی کے لئے موجودہ دور میں مرکزی مقام قرار فرمایا ہے اور پاکستان میں اس وقت وہ فعال مرکز ہے، جس کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہو رہی ہے۔پس مذہبی مرکز کے لحاظ سے تو ہندوستان یا وہ ملک جو پاکستان اور بھارت کا مجموعہ ہے، سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔پھر دوسرے نقطہ نگاہ سے، یعنی اصلیت کے لحاظ سے عرب ممالک نہایت ہی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔کیونکہ اسلام انہیں سے نکلا اور انہی سے باہر پھیلا اور وہ مقامات جن کے ساتھ انسانی عبادات وابستہ ہیں، وہیں واقع ہیں۔لیکن اس وقت وہ فعال مرکز نہیں۔اسلام کی اشاعت اور تنظیم کی طرف انہیں کوئی توجہ نہیں۔غرض اصلیت کے لحاظ سے عرب ممالک دنیا پر فوقیت رکھتے ہیں، خواہ وہاں تبلیغ کا کام نہ ہورہا ہو۔تیسرا مرکز اس وقت جنوب مشرقی ایشیا ہے۔جو آبادی کے لحاظ سے بہت بڑی فوقیت اور عظمت رکھتا ہے۔انڈو چائنا، ملایا، سیام، انڈونیشیا او فلپائن ان کو اگر ملا لیا جائے تو آبادی کے لحاظ سے یہ علاقہ دنیا کا تیسرا حصہ ہے۔لیکن رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا حصہ تو کجا چھٹا حصہ بھی نہیں۔ان ممالک میں سے جو اسلام کے ساتھ تعلق رکھنے والا علاقہ ہے، وہ انڈونیشیا کا ہے۔انڈو نیشیا اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اسلام اگر مشرقی ایشیا میں ترقی کر سکتا ہے تو صرف یہی ملک اس کا مرکز ہو سکتا ہے۔چین میں بھی سکتا کا 155