تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 151
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1950ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد سوم میں تقسیم کر دیئے۔کسی کو سو کسی کوسوا، سو اونٹ دے دیئے اور کسی کو دو ہزار بکریاں دے دیں۔انصار میں سے ایک نوجوان نے جب یہ نظارہ دیکھا تو اس نے کہا ، خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مال غنیمت اپنے رشتہ داروں میں بانٹ دیا ہے۔کسی نے یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی پہنچادی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار! مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے۔میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ خبر درست ہے؟ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم میں سے ایک نوجوان نے یہ کہا کہ فتح ہم نے کی ہے، خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال غنیمت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں میں بانٹ دیا ہے۔انصار رو پڑے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! بات تو سچی ہے لیکن ہم میں سے ایک بے وقوف نوجوان نے یہ بات کہی ہے ، ہم اس سے متفق نہیں۔آپ نے فرمایا، اے انصار ! اس کے منہ سے جو نکلنا تھا ، وہ نکل گیا اور واپس نہیں لیا جاسکتا۔اے انصار ا تم کہہ سکتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ میں ظاہر ہوئے ، ان کی قوم نے انہیں دھتکار دیا، اس نے آپ کا انکار کیا تکلیفیں دیں، دکھ دیئے اور جب مظالم انتہا کو پہنچے تو مدینہ نے اپنا دروازہ آپ کے لئے کھول دیا ، مدینہ کے لوگ آپ کو اپنے گھر لے آئے ، آپ کو اپنی حفاظت و پناہ میں رکھا اور آپ کی خاطر سارے عرب سے لڑائی کی اور مکہ بھی فتح کیا۔لیکن جب مال غنیمت ہاتھ آیا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔انصار اور شدت سے رونے لگے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارے ایک نوجوان نے یہ ایک بے وقوفی کی ہے، ہم یہ خیال بھی دل میں نہیں لا سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، اے انصار! لیکن اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔جہاں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور اموال غنیمت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیئے ہیں، وہاں تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی پیشگوئی کے مطابق مکہ میں پیدا کیا لیکن جب مکہ والوں نے گستاخی سے کام لیا تو خدا تعالیٰ نے وہ نعمت اس سے چھین کر مدینہ کو دے دی۔پھر خدا تعالیٰ کے فرشتوں اور لشکروں نے ساتھ ہو کر عرب فتح کیا اور مکہ بھی فتح کیا۔جب مکہ فتح ہوا اور مکہ والوں کو سمجھ آگئی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بچے ہیں اور انہوں نے خیال کیا کہ شاید ہماری کھوئی ہوئی نعمت ہمیں پھر واپس مل جائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ میں آجائیں گے اور مکہ جو آپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایک بیوہ کی حیثیت رکھتا ہے، سہاگ والی عورت کی شکل اختیار کر لے گا۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں اونٹ دیئے، 151