تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 150

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم ہے۔پس جب تم ایک معمولی ہمسائے کی سزا سے نہیں بچ سکتے ، جب تم حکومت کی سزا سے نہیں بچ سکتے تو تم خدا تعالیٰ کی سزا سے کس طرح بچ سکتے ہو ؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ وعدے، جو خدا تعالیٰ سے کئے جاتے ہیں ، وہ مسئول ہیں۔یعنی ان کے بارہ میں جواب طلبی ہوگی۔وہ آدمی ، جس نے وعدہ نہیں کیا ، وہ کمزور ہے اور خدا تعالیٰ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھے گا۔لیکن جس نے وعدہ کیا ہے اور اسے پورا نہیں کیا ، وہ مجرم ہے اور خدا تعالیٰ اسے سزادے گا۔پس یہ وعدے معمولی چیز نہیں۔اول تو یہی چیز افسوس ناک ہے کہ اتنا عظیم الشان کام اور اتنی معمولی قربانی۔پھر اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وعدوں کے پورا کرنے کی طرف بہت کم توجہ ہے۔اب تک وعدوں پر پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور اس پانچ ماہ کے عرصہ میں صرف 60 ہزار روپیہ کی رقم دفتر اول میں وصول ہوئی ہے۔حالانکہ قریبا نصف سال گزر چکا ہے اور اس عرصہ میں ایک لاکھ، چالیس ہزار روپیہ کی رقم وصول ہونی چاہئے تھی۔تب کہیں وہ کل وعدوں کا نصف - ہوتی۔اب جب آمد کا یہ حال ہے تو تحریک جدید والے مبلغوں کو وقت پر خرچ کیسے دے سکتے ہیں؟ یا درکھو تمہاری ذمہ داری سب سے پہلے ہے۔بے شک جو بوجھ تم پر ڈالا گیا ہے، وہ دوسروں پر نہیں ڈالا گیا۔بے شک جو تکالیف خدا تعالیٰ کی خاطر تم نے اٹھائی ہیں، وہ دوسروں نے نہیں اٹھا ئیں۔مگر یہ بھی یادرکھو کہ جو کچھ تمہیں ملنے والا ہے، وہ دوسروں کو نہیں ملے گا۔تم خدا تعالیٰ کی نظر میں السابقون الاولون میں سے ہو۔خدا تعالیٰ نے السابقون الاولون کا انعام اور مقرر کیا ہے اور دوسرے مومنوں کا انعام اور مقرر کیا ہے۔دوسرے مومنوں کے لئے خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ انہیں جنت ملے گی نعماء ملیں گی اور وہ آرام کی زندگی بسر کریں گے۔خدا تعالیٰ نے السابقون الاولون کی نسبت فرمایا ہے۔والسيقُوْنَ السَّبِقُونَ أُولَيكَ الْمُقَرَّبُونَ (الواقعہ رکوع 1) دوسرے مومن جنت میں ہوں گے مختلف نعماء سے متمتع ہورہے ہوں گے مگر سابقون میرے پاس عرش پر ہوں گے۔اور ایک عاشق صادق کے نزدیک جنت خدا تعالیٰ کے عرش کے پائے کے پاس ہونے کے مقابلہ میں کیا چیز ہے۔وہ اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتی ، جتنی حیثیت ایک کھری اور کچی اشرفی کے مقابلہ میں ایک کھوٹا پیسہ رکھتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا اور اس کے بعد طائف فتح کیا اور مالدار قوم کے ذخیرے، اونٹ، گھوڑے اور بکریاں اور غنیمت ملے تو آپ نے وہ مال مکہ کے حدیث العہد مسلمانوں 150