تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 149
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سو اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1950ء جتنا بوجھ پاکستان نے اٹھایا ہے، اتنا بوجھ فی فرد دوسری جماعتوں نے نہیں اٹھایا۔اور جتنا خرچ ایک پاکستانی اٹھاتا ہے، دوسری جماعتوں کا فرد اس سے نصف بھی نہیں اٹھاتا ، الا ماشاء اللہ۔یہ چیزیں ہیں ، جن کو سامنے رکھتے ہوئے، میں کہتا ہوں کہ اتنے خطرناک حالات کے ہوتے ہوئے ، اگر کوئی شخص کمزوری دکھاتا ہے تو کام کیسے چلے گا ؟ تحریک جدید دفتر دوم میں اس سال صرف ایک لاکھ ہمیں ہزار کے وعدے ہوئے ہیں۔پچھلے سال ایک لاکھ، دس ہزار کے وعدے ہوئے تھے لیکن وصول صرف ساٹھ ہزار روپیہ ہوا تھا۔دفتر اول کے دو لاکھ ستر ہزار کے وعدے ہوئے تھے لیکن وصولی دولاکھ ، چالیس ہزار کی ہوئی تھی۔اس ماہ کے اخراجات قرض لے کر ادا کئے گئے ہیں۔اگر بقایا داران اپنے فرائض کو سمجھتے اور اپنے وعدوں کو پورا کر دیتے تو ہم اس ماہ کے اخراجات بھی ادا کرتے اور دس پندرہ ہزار روپیہ قرض کی ادائیگی کے لئے بھی بچ جاتا۔یا درکھنا چاہئے کہ تحریک جدید نے 30 لاکھ روپیہ کی جائیداد خریدی تھی، جس میں سے 11 لاکھ روپیہ کا قرضہ ابھی باقی ہے۔اس لئے میں نے جو کہا تھا کہ فلاں فلاں رقوم اس میں شامل نہیں کرنی چاہئیں ، وہ اس قرضہ میں جاتی ہیں اور ابھی تین چار سال تک ہم اس قرض سے سبکدوش نہیں ہو سکتے۔ہاں اگر خدا تعالیٰ کا کوئی خاص فضل ہو جائے تو اور بات ہے۔غرض جب دفتر دوم کے ایک لاکھ، دس ہزار کے وعدے ہوں اور وصولی ساٹھ ہزار کی ہو اور دفتر | اول کے دولاکھ 70 ہزار کے وعدے ہوں اور وصولی دولاکھ 40 ہزار روپیہ ہو تو کام کیسے ہو سکتا ہے؟ جہاں میں نے آپ لوگوں کی برکت کی اور تعریف کی ہے کہ آپ نے اپنی ذمہ داریوں کو خوب سمجھا ہے اور وہ قربانیاں کی ہیں، جن کے مقابلہ میں غیر ممالک کی جماعتیں نصف قربانی بھی نہیں کر سکتیں۔وہاں میں اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ بڑی ذمہ داری رکھتا ہے۔تم ایک معمولی ہمسائے کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو بھی بھلا نہیں سکتے۔وہ جہاں بیٹھتا ہے تمہیں تنگ کرتا ہے۔وہ تمہیں سزا نہیں دے سکتا ، وہ تمہیں گرفتار نہیں کر سکتا، وہ تمہیں ملک بدر نہیں کر سکتا، وہ تمہیں قید نہیں کر سکتا مگر اتنا ضرور کرتا ہے کہ جہاں مجلس ہوتی ہے ، وہ کہتا ہے، اے فلاں صاحب ! آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا لیکن اسے پورا نہیں کیا۔اور بعض دفعہ اس قسم کے طعنوں پر خونریزی بھی ہو جاتی ہے۔پھر تم حکومت سے کئے ہوئے وعدوں کو بھی بدل نہیں سکتے۔جتنے قانون ہیں، وہ گورنمنٹ سے وعدے ہی ہیں۔ہمارے نمائندے جاتے ہیں اور وہ حکومت سے ایک وعدہ کر آتے ہیں اور وہی قانون ہوتا ہے، جس کی نافرمانی پر انسان سزا پاتا 149