تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 141

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 اپریل 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم کی سی زندگی ہوگی کوئی قربانی نہیں کہلائے گی۔محض قربانی کرنا اور تکلیف اٹھانا ہمیں زیادہ سے زیادہ ایک جانور کی شکل دے سکتا ہے۔انسانیت والا کام بھی ہو سکتا ہے، جب مثبت کام ہو منفی کام نہ ہو۔دھوپ میں بیٹھ رہنا، سایہ میں بیٹھ رہنا، بے کپڑوں کے بیٹھ رہنا، فاقہ برداشت کر لینا، یہ سب منفی کے کام ہیں اور یہ کتا بھی کرتا ہے۔ان سب باتوں کے بعد ہم زیادہ سے زیادہ کتے سے مشابہہ ہو جاتے ہیں۔کہتے ہیں کسی صوفی سے جو مکے میں رہتے تھے، کسی نے پوچھا کہ تو کل کی کیا تعریف ہے؟ انہوں نے کہا تو کل کی تعریف یہ ہے کہ جو مل گیا کھا لیا اور اگر کھانے کو کچھ نہ ملا تو صبر کر لیا۔اس آدمی نے کہا، حضور پھر کتے اور انسان میں کیا فرق ہے؟ وہ صوفی دم بخودرہ گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ نو جوان اس مقام کو ان سے زیادہ سمجھتا ہے۔یعنی کتا بھی تو یہی کام کرتا ہے۔اگر انسان نے وہ کام کر لیا تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ کتا بن گیا۔در حقیقت اب کام کا سوال ہے۔جماعت احمدیہ پر اب چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں، مختلف جگہوں پر ہمارے خلاف جلسے منعقد ہورہے ہیں۔ہمارا کام یہ تھا کہ ایک سکیم کے ماتحت دشمن کا مقابلہ کرتے اور اسے کچل ڈالنے کی کوشش کرتے۔لیکن صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے اجلاسوں میں صرف دونی اور چونی کی ترقی کی بحثیں ہوتی ہیں۔اور انہوں نے یہ کبھی خیال نہیں کیا کہ جماعت کے مقابلہ میں دشمن اپنی ساری طاقتیں جمع کر رہا ہے۔انہوں نے اس چیز کے متعلق نہ کوئی فیصلہ کیا ، نہ مشورہ کیا اور نہ ہی کوئی سکیم تیار کی۔یہ بریکار زندگی ہے، یہ محض ادنی جانور کی سی زندگی ہے۔بلکہ ایک رنگ میں جانور ان لوگوں سے بہتر ہے۔کیونکہ اسے غذامل جائے تو وہ کھالیتا ہے ، ورنہ صبر کرتا ہے۔ہمارے کارکن تو پہلے روٹی کے لئے کچھ نہ کچھ مقرر کرواتے ہیں۔مان لیا، باہر تنخواہیں زیادہ مل سکتی ہیں، کاروبار زیادہ اچھی طرح چلائے جاسکتے ہیں اور یہاں تنخواہیں کم مل رہی ہیں لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ تو ہمارے لئے مقرر ہے۔خواہ تھوڑا ملے یا زیادہ ملے ہمیں یہ یقین ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ملے گا۔لیکن جانور کو یہ یقین بھی نہیں ہوتا۔منفی کی صورت میں جانوروں سے انسان بہتر ہو جاتا ہے۔ہاں ہمارے کارکنوں کے کام اگر مثبت قسم کے ہوں تو پھر وہ یقینا اشرف المخلوقات ہیں۔یہی حال تحریک جدید کا ہے۔میں حیران ہوں کہ آخر ان کی آنکھیں کب کھلیں گی ؟ ان کی سمجھ میں یہ بات اب تک نہیں آئی کہ ان کا رات دن سونا ، جا گنا، اٹھنا، بیٹھنا سب کچھ خدا کے لئے ہے۔تو پھر تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ والی حالت ہونی چاہئے۔کھاتے ہوں، پیتے ہوں ، کھڑے ہوں، بیٹھے ہوں ، کلام کر رہے ہوں 141