تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 140
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 اپریل 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم سمجھتا ہے۔وہ شخص، جو پچاس گاؤں کا بھی لیڈر نہیں بن سکتا ، اسے ایک ایسے ملک میں جماعت کا نمائندہ بنا وہ کر بھیجنا چاہا، جس کی آبادی سولہ کروڑ ہے۔جس میں بڑی بڑی یونیورسٹیاں ہیں۔جنہوں نے اس قدر دماغی ترقی کی ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان نہیں بلکہ افضل انسان (Superman) سمجھتے ہیں۔جس ملک کی عملی طور پر تمام دنیا پر دھاک بیٹھی ہوئی ہے اور وہ دنیا پر ایک حکمران کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی عقلی اور عملی برتری کا یہ نمونہ ہے کہ دنیا کے ایک طرف پڑا ہوا ملک ساری دنیا کی دولت کھینچ رہا ہے۔پاکستان کی سالانہ آمد ایک ارب ہے۔مشترکہ ہندوستان کی سالانہ آمد چار ارب تھی۔انگلستان ، جو بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے، جس نے ایک وقت تک دنیا کے اکثر حصہ پر حکومت کی ہے، اس کی سالانہ آمد 28 ارب ہے۔لیکن امریکہ 30 ارب صدقہ کے طور پر دوسرے ممالک کو دے رہا ہے۔اب اس کی مالی طاقت کا اندازہ کر لو۔انگلستان کی ساری آمد 18 ارب ہے۔جس میں اس کا فوجی خرچ بھی شامل ہوتا ہے، ہوائی فوج کا خرچ بھی شامل ہوتا ہے، سمندری جہازوں کا خرچ بھی شامل ہوتا ہے، مجسٹریٹ بھی ہوتے ہیں، بیج بھی ہوتے ہیں تنخواہوں کے اخراجات بھی اس میں شامل ہیں، صحت کے اخراجات بھی شامل ہیں، ان سب پر انگلستان 28 ارب خرچ کرتا ہے۔لیکن امریکہ 30 ارب صدقہ کے طور پر دوسرے ممالک کو دیتا ہے۔ایسے ملک میں جماعت کے نمائندہ کے طور پر ہمارے لال بجھکڑ ایک مڈل پاس کی سفارش کرتے ہیں۔ہم جب ربوہ میں آئے تو آخر مکانوں کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہوسکتا تھا۔میں نے کچھ عارضی مکانوں کی اجازت دے دی۔لیکن صدر انجمن احمدیہ نے اس عرصہ میں مستقل مکانات کے متعلق ایک سطر بھی نہیں لکھی، وہ ہمیشہ یہی لکھتی رہتی ہے کہ فلاں عارضی مکان کی اجازت دی جائے ،فلاں کی اجازت دی جائے۔آخر یہ عارضی کام رکے گا بھی کہ نہیں اور مستقل عمارات کا سلسلہ چلے گا کہ نہیں ؟ اب میں نے دو ماہ سے عارضی مکانات بنانے سے روک دیا ہے ورنہ صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے عارضی مکانات بنانے کی سفارش کا سلسلہ اب تک جاری تھا۔پھر مستقل عمارات کے متعلق صدر انجمن احمدیہ نے اب تک کچھ نہیں کیا۔میں نے بیماری کی حالت میں بیٹھ کر نقشے تیار کئے ہیں اور تعمیر والوں کو دیئے ہیں کہ وہ نقشے بنا کر کمیٹی میں پیش کر کے ان کی منظوری لے لیں تا مستقل عمارات بن جائیں اور عارضی تعمیر پر روپیہ ضائع نہ ہو۔اسی طرح آدمی تیار کرنے کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں بلکہ میں کہتا ہوں اور سب چیزیں جانے دو۔فرض کر لو، ہم مکانوں میں نہیں رہیں گے، خیموں میں اور جھونپڑیوں میں رہیں گے مگر زندگی سانس لینے کا نام نہیں ، زندگی نام ہے کسی کام کا۔اگر ہم ان سب تکالیف کے لئے تیار ہو جائیں ، تب بھی یہ ایک کتے 140