تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 142
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 اپریل 1950ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم یا خاموش ہوں، وہ قوم کی ترقی اور بہبودی کے لئے سوچ رہے ہوں۔اور اپنی ذمہ داری کو ایسی اعلیٰ شان میں پیش کر رہے ہوں کہ دیکھنے والا سمجھے کہ واقعی کوئی کام ہورہا ہے۔بیرونی ممالک کا کوئی آدمی یہاں آئے ، یہ الگ بات ہے کہ شرم کے مارے، وہ یہ سوال نہ کرے لیکن اگر صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید سے پوچھے کہ گذشتہ تین ماہ میں تم نے کیا کام کیا ہے؟ تو جواب صفر ہوگا۔لیکن اگر یہی سوال وہ امریکن گورنمنٹ سے کرے تو وہ کتابوں کے طومار نکال کر رکھ دے گی اور اسے بتائے گی کہ ان تین ماہ میں ہم نے رومانیہ، روس، ہنگری، یوگوسلاویہ اور سپین کے سب راز معلوم کرلئے ہیں۔اپنی قوت کو بڑھانے کے لئے ہم نے یہ یہ کاروائیاں کی ہیں۔ہم نے اپنے ملک کی خاطر یہ یہ چالاکیاں کی ہیں۔انگلستان سے پوچھے تو وہ ساری تاریخیں بتا دے گا۔وہ کہے گا کہ انڈونیشیا اور ہندوستان میں اپنا رسوخ بڑھانے کے لئے ہم نے یہ یہ کاروائیاں کی ہیں۔ادنیٰ سے ادنی اور جاہل سے جاہل حکومت سے بھی دریافت کیا جائے تو وہ کچھ نہ کچھ باتیں بیان کردے گی اور کچھ نہ کچھ کام بتادے گی۔لیکن ہماری صدر انجمن احمدیہ سے کوئی پوچھے کہ تمہارا تو ہر ملک سے مقابلہ ہے۔امریکہ کا ہر ملک سے مقابلہ نہیں لیکن انہوں نے بہت کچھ کیا ہے۔تمہارا ہر ملک سے مقابلہ ہے تم نے کیا کیا ہے؟ تو وہ ایک رجسٹر دکھا دے گی کہ ہم نے دونی کا فلاں کی تنخواہ میں تنزل کیا ہے اور فلاں کی تنخواہ میں چوٹی کی ترقی کی ہے۔لیکن کیا اس سے امریکہ مسلمان ہو جائے گا ؟ کیا اس سے کمیونزم تباہ ہو جائے گا ؟ کیا اس سے احراری مر جائیں گے؟ غرض وہ ایک بیکار وجود ہیں، جس کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کام کس طرح کیا جاتا ہے؟ عشق کیا ہوتا ہے؟ وہ کیا آگ ہوا کرتی ہے، جو انسان کو خدا تعالیٰ کا مقرب بنادیتی ہے اور جس کے بعد انسان ہر قسم کی تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور انسان خدا تعالیٰ کے فضل کا مورد بن جاتا ہے؟ ایک دفعہ اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، میں صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنا مثبت کام دکھا ئیں۔جب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا تھا تو کیا اس لئے بھیجا تھا کہ ایک سکول جاری کر دو یا اس لئے بھیجا تھا کہ ایک کالج جاری کر دو؟ کیا اس لئے بھیجا تھا کہ سو آدمی نوکر کر لو اور ان کی ترقی اور تنزل کے سوال طے کر دیا یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔لیکن خدا تعالیٰ اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں کے ساتھ اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ؟ کیا خدا تعالیٰ کبھی آسمان سے اترا ہے؟ کیا اس نے کبھی تلوار اٹھائی ہے؟ پھر یہ زور آور حملے کس نے کرنے ہیں؟ یہ زور آور حملے ہم نے کرنے ہیں۔” بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر 142