تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 86

خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم غرض حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں پہلے یہی بجھتی تھی۔جیسے آج کل عوام میں خیال پایا جاتا ہے کہ جس کی جان تکلیف سے نکلتی ہے، وہ برا ہوتا ہے اور جس کی جان آرام سے نکلتی ہے، وہ نیک ہوتا ہے۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جان کنی کی تکلیف کو میں نے دیکھا تو اس خیال سے تو بہ کی اور میں نے سمجھا کہ اس کا تعلق ایمان کے ساتھ نہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کو دنیا میں تکالیف پہنچتی ہیں اور کوئی نبی اور ولی ایسا نہیں گذرا، جس پر مصیبتیں نہ آئی ہوں مگر جو چیز ان پر نہیں آتی اور جس میں انبیاء دوسروں سے مستثنیٰ ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان پر کوئی ایسی تکلیف نہیں آتی ، جو انہیں مایوس کر دے یا خدا کی رحمت سے انہیں محروم کر دے۔ورنہ تکالیف ان پر بھی آتی ہیں اور بعض دفعہ تو بڑی بڑی تکلیفیں آتی ہیں۔چنانچہ دیکھ لو ابو جہل بے شک مر گیا اور خدا نے اسے دنیا اور آخرت میں ذلیل کر دیا لیکن جسمانی زندگی اور دنیا کے آرام کو اگر دیکھا جائے تو ابو جہل کی زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی سے زیادہ آرام میں گذری ہے۔بے شک اس کی زندگی کے آخری لمحات میں خدا تعالٰی نے یہ فیصلہ کر دیا کہ اس کی آرام کی زندگی خدا تعالیٰ کے کسی فضل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ وہ ایسی ہی تھی جیسے شیطان کو ڈھیل دی گئی ہے۔لیکن اس سے پہلے لوگ یہی سمجھتے تھے کہ ابو جہل آرام میں ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تکلیف میں ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کا انسان کے ہاتھ بن جانایا پاؤں بن جانا یا زبان بن جانا، یہ معنی نہیں رکھتا کہ ایسا انسان مصیبتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان ان مصائب سے محفوظ ہو جاتا ہے، جو تباہ کرنے والی ہوتی ہیں۔ورنہ ظاہری تکلیف انبیاء کو بھی پہنچتی ہیں ، صدیقوں کو بھی پہنچتی ہیں، شہیدوں کو بھی پہنچتی ہیں اور صالحین کو بھی پہنچتی ہیں بلکہ شہید تو کہتے ہی اسے ہیں، جو خدا تعالیٰ کی راہ میں مارا جائے۔پھر ہم شہید کو شہید کیوں کہتے ہیں؟ اور ان دشمنوں کے متعلق جو لڑائی میں مارے جاتے ہیں، یہ کیوں کہتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے عذاب سے مارے گئے ہیں؟ اسی لئے کہ شہید کی شہادت، خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نیچے ہوتی ہے اور اس کے دشمنوں کی موت، خدا تعالی کی لعنت کے نیچے ہوتی ہے۔پس دشمن کی موت کو ہم عذاب قرار دیتے ہیں مگر شہید کی موت کو انعام سمجھتے ہیں۔چنانچہ بدر میں مارے جانے والے صحابہ کی ہم کتنی عزت کرتے ہیں لیکن بدر میں مارے جانے والے کفار کے متعلق کہتے ہیں کہ خدا نے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کیا۔حالانکہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی لڑائی میں دونوں مارے گئے تھے۔کفار بھی اسی لڑائی میں ہلاک ہوئے 86