تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 85
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1941ء بن جائیں۔پس دنیا کو چھوڑنا دونوں کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔مگر ایک کی روح تو اس لئے تکلیف محسوس کرتی ہے کہ وہ دنیا کہ عیش اور آرام سے حظ اٹھانا چاہتی ہے اور دوسرے کی روح اس لئے تکلیف محسوس کرتی ہے کہ لوگ بغیر نگرانی کے رہ جائیں گے۔پس بظاہر دونوں کو ہی تکلیف ہوتی ہے۔ایک نادان اور احمق انسان جو نہیں جانتا کہ یہ تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ یا وہ جسے حقائق کا تجربہ نہیں ہوتا۔خیال کرتا ہے کہ شاید ایمان کی کمی کی وجہ سے یہ تکلیف ہورہی ہے۔مگر جب اس کی عقل تجربہ سے راہنمائی حاصل کر لیتی ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ جان کنی کی تکلیف کی کئی وجوہ ہوتی ہیں۔کبھی ایک نیک شخص جان کنی کی تکلیف اٹھاتا ہے اور بد جان کنی کی تکلیف نہیں اٹھاتا ہے اور کبھی بد جان کنی کی تکلیف اٹھاتا ہے اور نیک جان کنی کی تکلیف نہیں اٹھاتا۔اور اس کی وجہ وہی ہوتی ہے، جو میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک کا جسم مضبوط ہوتا ہے اور دوسرے کا کمزور اور کمزور جسم میں سے آسانی کے ساتھ جان نکل جاتی ہے لیکن مضبوط جسم میں سے آسانی سے جان نہیں نکلتی۔مثلاً ایک بوڑھا شخص جس کا جسم گھل چکا ہو، بعض دفعہ باتیں کرتے کرتے اس کی جان نکل جاتی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کتنا نیک تھا کہ باتیں کرتے کرتے اس کی جان نکل گئی۔حالانکہ باتیں کرتے کرتے اس کی جان اس لئے نہیں نکلی کہ وہ نیک تھا بلکہ اس لئے نکلی کہ اس کی جان پہلے ہی مری ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ ایک اندھے سے کسی نے کہا کہ سو جاؤ۔تو وہ کہنے لگا ہمارا سونا کیا ہے، چپ ہو جانا یعنی سونا کس کو کہتے ہیں؟ اس کو کہ انسان آنکھیں بند کر لے اور خاموش ہو جائے۔اب آنکھیں تو اس کی پہلے ہی بند تھیں۔اس نے کہا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ سوجاؤ تو میں نے اور کیا کرنا، خاموش ہو جاتا ہوں۔تو کسی بوڑھے کی جان اگر آرام سے نکلتی ہے تو اس کے یہ معانی نہیں ہوتے کہ وہ بڑا نیک ہوتا ہے بلکہ یہ معنی ہوتے ہیں کہ اس کا جسم گھل چکا ہوتا ہے اور جان آسانی سے نکل جاتی ہے۔جیسے بوسیدہ دانت گلے سڑے مسوڑھوں سے آسانی کے ساتھ الگ ہو جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ روٹی کھاتے ہوئے لقمہ میں آجاتا ہے۔اسی طرح وہ انسان جس کا جسم گھل چکا ہوتا ہے، جب عزرائیل اس کی جان نکالنے آتا ہے تو بوسیدہ اور ہلے ہوئے دانت کی طرح آسانی سے اسے الگ کر لیتا ہے۔لیکن جس کا جسم مضبوط ہوتا ہے، اسے جان کنی کی سخت تکلیف ہوتی ہے اور دوسری وجہ تکلیف کی یہ ہے کہ دنیا سے شدید محبت ہویا دنیا میں اس کے سپر د کوئی ایسا اصلاح کا کام ہو، جس کو چھوڑنا اس پر اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کی اصلاح کے خیال سے شاق گزرتا ہے۔85