تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 87
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1941ء اور صحابہ بھی اس لڑائی میں شہید ہوئے۔مگر ایک کے متعلق تو ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل کیا اور انہیں اپنے انعامات سے نوازا اور دوسروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان پر غضب نازل ہوا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک گروہ تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نیچے مرا اور دوسراگر وہ اس کی لعنتوں کے نیچے مرا۔تو اللہ تعالیٰ کا انسان کے ہاتھ ہو جانا یا پاؤں بن جانا، یہ معنی نہیں رکھتا کہ ایسے انسان تکلیفوں سے بچ جاتے ہیں بلکہ یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایسے انسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نیچے آجاتے ہیں اور ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا اتصال ہو جاتا ہے کہ ان کی خواہشات ، خدا کی خواہشات بن جاتی ہیں اور ان کی آرزوئیں ، خدا کی آرزوئیں بن جاتی ہیں۔اس لئے وہ کبھی کوئی ایسی خواہش نہیں کر سکتے ، جس نے رد ہو جانا ہو۔مگر اس کے یہ معانی بھی نہیں کہ گھروں میں روز مرہ پیش آنے والے امور کے متعلق بھی ان کی ہر خواہش پوری ہو جاتی ہے بلکہ اس سے مراد صرف وہ خواہشات ہیں، جو انسانی زندگی کے مقاصد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔مثلا یہ تو ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ایک مقرب انسان کو پیچش کی شکایت ہو اور اس کی طبیعت خشکے کو چاہے تو وہ گھر میں تیار نہ ہو مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی وہ خواہشات پوری نہ ہوں جو اس کی زندگی کے مقاصد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ورنہ بشریت کے ماتحت تو ایسا ہوتا ہی رہتا ہے کہ ایک انسان بعض دفعہ ایک چیز کی خواہش کرتا ہے اور وہ گھر میں موجود نہیں ہوتی یا چاہتا ہے کہ فلاں کام ہو جائے مگر حسب منشا نہیں ہوتا لیکن ایسی خواہشات اپنے اندر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتیں۔اور بعض دفعہ ایک گھنٹہ گزر جانے کے بعد انسان کو یاد بھی نہیں رہتا کہ اس کے دل میں کیا خواہش پیدا ہوئی تھی ؟ پس جو خواہشات ایسے انسان کی لازما پوری ہوتی ہیں، وہ وہی ہوتی ہیں جو اس کی زندگی کے مقاصد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور جن کے پورا نہ ہونے سے اس کا آرام دکھ سے بدل جاتا ہے۔عام خواہشات اس میں شامل نہیں اور نہ ہی وہ اتنی اہم ہوتی ہیں۔بلکہ بعض دفعہ تو انسان ایسی خواہش کے پورا ہونے پر اسی وقت ہنس پڑتا اور ملال جاتا رہتا ہے۔پس اس کے یہ معنی نہیں کہ ایسے انسان کی ہر خواہش پوری ہو جاتی ہے بلکہ صرف وہ خواہشیں پوری ہوتی ہیں، جو اس کی زندگی کے مقاصد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔تحریک جدید کی غرض بھی یہی ہے کہ وہ لوگ جو اس کے چندہ میں حصہ لیں ، خدا ان کے ہاتھ بن جائے ، خدا ان کے پاؤں بن جائے، خدا ان کی آنکھیں بن جائے اور خدا ان کی زبان بن جائے اور وہ ان نوافل کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے ایسا اتصال پیدا کر لیں کہ ان کی مرضی ، خدا کی مرضی ، ان کی خواہشات ، خدا کی خواہشات ہو جائیں۔اس عظیم الشان مقصد کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے تم غور کرو کہ جب تمہارا اس 87