تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 78
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 فروری 1941ء تحریک جدید - ایک انہی تحریک جلد دوم حقیقت یہ ہے کہ ان چیزوں کے متعلق بہت زیادہ زور دینے ، بار بار توجہ دلانے اور زیادہ سے زیادہ ان کی اہمیت لوگوں کے ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے۔ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کے کانوں میں بار بار یہ باتیں ڈالیں۔اسی طرح اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ طالب علموں کے دماغوں میں ان چیزوں کو راسخ کر دیں اور ان باتوں کی کرید، تلاش اور جستجو کا مادہ ان میں پیدا کریں۔کیونکہ لوگ سچائی کو نہیں جانتے کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے؟ وہ صرف سچ کا لفظ جاننا کافی سمجھ لیتے ہیں۔اسی طرح وہ نہیں جانتے کہ محنت کتنی ضروری چیز ہے؟ بلکہ وہ صرف محنت کے لفظ کورٹ لینا، اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔اسی طرح لوگ جھوٹ سے بچنے کے الفاظ تو سنتے ہیں مگر جانتے نہیں کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے؟ اسی طرح انہوں نے بنی نوع انسان کی محبت اور خیر خواہی کے الفاظ سنے ہوئے ہوتے ہیں مگر جانتے نہیں کہ محبت اور خیر خواہی کیا ہوتی ہے؟ اسی طرح انہوں نے غیبت کا لفظ سنا ہوا ہوتا ہے۔مگر جانتے نہیں کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟ یہ نہیں کہ ہماری شریعت میں ان چیزوں کا حل موجود نہیں ، حل موجود ہے۔قرآن کریم نے ان امور کی وضاحت کر دی ہے۔احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمام باتوں کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔مگر لوگ ہیں کہ ان باتوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ غیبت نہیں کرنی چاہئے۔اس پر ایک شخص نے کہا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اگر میں اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کروں جو اس میں فی الواقعہ موجود ہو تو آیا یہ بھی غیبت ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ غیبت اس کا تو نام ہے کہ تم اپنے بھائی کا اس کی عدم موجودگی میں کوئی ایسا عیب بیان کرو جو فی الواقعہ اس میں پایا جاتا ہو اور اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ پائی جاتی ہو تو یہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہوگا۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ کو حل کر دیا اور بتا دیا کہ غیبت اس بات کا نام نہیں کہ تم کسی کا وہ عیب بیان کرو، جو اس میں پایا ہی نہ جاتا ہو۔اگر تم ایسا کرو تو تم مفتری اور تم جھوٹے ہو تم کذاب ہو، گر تم غیبت کرنے والے نہیں۔غیبت یہ ہے کہ تم اپنے کسی بھائی کا کوئی سچا عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کرو۔یہ بھی منع ہے اور اسلام نے اسے سختی سے روکا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس بات کو ساڑھے تیرہ سو سال سے حل کر دیا اور قرآن میں اس کا ذکر موجود ہے اور اگر اب بھی کوئی غیبت کر رہا ہو اور اسے کہا جائے کہ تم غیبت مت کرو۔تو وہ جھٹ کہہ دے گا کہ میں غیبت تو نہیں کر رہا۔میں تو بالکل سچا واقعہ بیان کر رہا ہوں حالانکہ ساڑھے تیرہ سو سال گزرے، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم 78