تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 77

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 فروری 1941ء ہیں ان میں سے نوے فی صدی کا میں نے یہی حال دیکھا ہے۔سو میں سے دو چار ایسے بھی ہوتے ہیں، جنہوں نے کوئی جواب دیا ہے مگر ان کا وہ جواب بھی بہت ہی ادھورا تھا مثلاً یہی کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔اس لئے ہم اسے سچا سمجھتے ہیں اور اس طرح وہ خود ہی قابو میں آجاتے ہیں کیونکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی بھی بہت سی پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں تو جو سچائی ہر وقت انسان کی سامنے رہتی ہے، اسے وہ کریدنے کا عادی نہیں ہوتا اور نہ اسے اس کے دلائل معلوم ہوتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا کہ سچائی وغیرہ کے بارہ میں کسی کو سمجھانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ عام باتیں ہیں جو تمام لوگ جانتے ہی ہیں، بہت بڑی غفلت ہے کیونکہ جو چیزیں زیادہ سامنے آتی ہیں وہی اس بات کا حق رکھتی ہے کہ ان کے متعلق بار بار سمجھا یا جائے اور بار بار ان کے دلائل بیان کئے جائیں۔کیونکہ لوگ بار بار سامنے آنے والی چیزوں کے متعلق سوال نہیں کیا کرتے بلکہ وہ غیر معروف چیزوں کے متعلق زیادہ سوال کیا کرتے ہیں۔قادیان میں قرآن کریم کا درس تو اکثر ہوتا ہی رہتا ہے۔تم غور کر کے دیکھ لو کہ وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متعلق سوالات کرنے والے ہوں، وہ بہت ہی تھوڑے ہوتے ہیں۔حضرت عیسی کے متعلق اس سے زیادہ سوال کرتے ہیں اور حضرت موسیٰ" کے معجزوں کا ذکر آجائے تو اور زیادہ ہے سوالات کرتے ہیں۔لیکن جب آدم کا قصہ آجائے تو بے تحاشہ سوالات کرنے لگ جاتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا دل میں بے اختیار گدگدیاں ہونی شروع ہو گئی ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ آدم کا واقعہ بہت دور کا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معجزات کا بار بار ذکر سن کر اعتراض کا خیال دل میں پیدا نہیں ہوتا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان باتوں کے دلائل موجود نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ لوگوں کو دلائل سے ناواقفیت ہے اور اس کی وجہ کسی بات کا بار بار سامنے آتے رہنا ہے۔لوگ اس چیز کے بار بار سامنے آنے کی وجہ سے دلائل پر غور نہیں کرتے اور اسکی حقیقت معلوم کرنے سے غافل رہتے ہیں۔پس تم مت خیال کرو کہ جب تم کہتے ہو کہ سچ بولنا چاہئے تو تمہارا بچہ بھی جانتا ہے کہ سچ کیوں بولنا چاہئے ؟ وہ اس بات کو ہرگز نہیں جانتا کہ سچ کیوں بولنا چاہئے؟ بلکہ تم مجھے یہ کہنے میں معاف کرو کہ تم جو کہتے ہو کہ ہمارا بچہ جانتا ہے کہ اسے سچ کیوں بولنا چاہئیے ؟ تم خود بھی نہیں جانتے کہ سچ کیوں بولنا چاہئیے ؟ اسی طرح تم میں سے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے بچوں کو یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ محنت کریں؟ یہ بات تو سب جانتے ہیں۔وہ مجھے یہ کہنے میں معاف کریں کہ ان کے بچے تو کیا وہ خود بھی نہیں جانتے کہ محنت کس قدر ضروری چیز ہے؟ 77