تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 79
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبهہ جمعہ فرمودہ 28 فروری 1941ء یہ سنا چکے ہیں اور علی لاعلان اس کا اظہار فرما چکے ہیں مگر اب بھی اگر کسی کو روکو تو وہ کہہ دے گا کہ یہ غیبت نہیں یہ تو بالکل سچی بات ہے۔حالانکہ کسی کی عدم موجودگی میں سچا عیب بیان کرنا ہی غیبت ہے اور اگر وہ جھوٹ ہے تو تم غیبت کرنے والے نہیں بلکہ مفتری اور کذاب ہو۔یہ چیزیں ہیں جن کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مگر بوجہ اس کے کہ بار بار ان کے الفاظ کانوں میں پڑتے رہتے ہیں ، لوگ حقیقت معلوم کرنے کی جستجو نہیں کرتے۔پس ان باتوں پر بار بارز وردو اور اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ جب تک یہ جسم مکمل نہیں ہو گا۔اس وقت تک مذہب کی روح بھی قائم نہیں رہ سکتی۔گویا ایمان ایک روح ہے اور اخلاق فاضلہ اس روح کا جسم ہیں۔پس میں تحریک جدید کے تمام کارکنوں اور خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نو جوانوں میں ان باتوں کو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔سپرنٹنڈنٹ کو چاہئے کہ وہ بچوں کے کانوں میں یہ باتیں بار بار ڈالیں اور ماں باپ کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو ان باتوں پر پختگی کے ساتھ قائم کریں اور کوشش کریں کہ ان میں جھوٹ کی عادت نہ ہو، غیبت کی عادت نہ ہو، چغل خوری کی عادت نہ ہو ظلم کی عادت نہ ہو، دھو کہ اور فریب کی عادت نہ ہو۔غرض جس قدر اخلاق ہیں وہ ان میں پیدا ہو جائیں اور جس قدر بدیاں ہیں ان سے وہ بچ جائیں تا کہ وہ قوم کا ایک مفید جسم بن سکیں۔اگر ان میں یہ بات نہیں تو وفات مسیح پر لیکچر دینا یا منہ سے احمدیت زندہ باد کے نعرے لگاتے رہنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔کیونکہ کوئی روح بغیر جسم کے نہیں رہ سکتی اور کوئی جسم بغیر روح کے مفید کام نہیں کر سکتا۔جسم کی مثال ایک پیالے کی سی ہے اور روح کی مثال دودھ کی سی۔جس طرح دودھ بغیر پیالے کے زمین پر گر جاتا ہے۔اسی طرح اگر اخلاق فاضلہ کا جسم تیار نہیں ہو گا تو تمہارے لیکچر اور تمہاری تقریریں زمین پر گر کر مٹی میں جنس جائیں گی۔لیکن اگر اخلاق فاضلہ کا پیالہ تم ان کے دلوں میں رکھ دو گے تو پھر وعظ بھی انہیں فائدہ دے گا اور تقریریں بھی ان میں نیک تغیر پیدا کر دیں گی۔(مطبوعہ الفضل 14 مارچ 1941ء) 79