تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 74

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 فروری 1941ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم یور بین قوموں کو دیکھ لو، یہ جہاں جاتی ہیں انہیں کام نظر آجاتا ہے۔ہندوستانی کہتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے مگر یورپین لوگوں کو ہندوستان میں بھی دولت نظر آرہی ہے اور وہ اس دولت کو سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح سیلونی کہتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے مگر انگریزوں کو سیلون میں بھی دولت دکھائی دیتی ہے۔افغانی کہتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے مگر انگریزوں کو افغانستان میں بھی دولت دکھائی دیتی ہے۔پھر عرب جیسے سنگلاخ خطہ اور اس کے جنگلوں میں بھی انگریزوں کو دولت دکھائی دیتی ہے۔مصر جیسی وادی میں بھی انہیں دولت دکھائی دیتی ہے۔چین جاتے ہیں تو وہاں بھی دولت کمانے لگ جاتے ہیں۔مگر چینی کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں ملتا۔تو یہ انگریزوں کی نظر کی تیزی کا ثبوت ہے کہ وہ جہاں جاتے ہیں انہیں دولت دکھائی دینے لگ جاتی ہے اور یہ نظر کی تیزی اخلاق فاضلہ سے ہی حاصل ہوتی ہے۔اگر کسی قوم میں اخلاق فاضلہ پیدا ہو جائیں تو اس کے افراد کی نظر اسی طرح تیز ہو جاتی ہے۔غرض قربانی اور ایثار کا مادہ ایسی چیز ہے جو انسان کی ہمت کو بڑھاتا ہے اور سچ بولنا ایک ایسا وصف ہے جو انسان کا اعتبار قائم کرتا ہے اور محنت کی عادت ایک ایسی چیز ہے جو کام کو وسعت دیتی ہے اور جب کسی شخص میں یہ اخلاق فاضلہ پیدا ہو جائیں تو ایسا آدمی ہر جگہ مفید کام کر سکتا ہے اور ہر شعبہ میں ترقی حاصل کر سکتا ہے۔پس میں تحریک جدید کے کارکنوں کو خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ یہ امر طالب علموں کو ذہن نشین کراتے رہیں کہ انہیں ہمیشہ سچائی سے کام لینا چاہیے اور محنت کی عادت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے اور اس امر کو ان کے انفاذ ہن نشین کریں کہ یہ امر ان کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے کہ ان باتوں کا چھوڑ نا ایسا ہی ہے جیسے طاعون میں گرفتار ہونا۔آخر وجہ کیا ہے کہ ایک چورمل جاتا ہے تو وہ دوسرے کے دل میں چوری کی محبت پیدا کر دیتا ہے، ایک جھوٹا اور کذاب انسان مل جاتا ہے تو وہ دوسرے کو جھوٹ اور کذب بیانی کی عادت ڈال دیتا ہے،ایک سست اور غافل انسان کسی دوسرے کے پاس رہتا ہے تو اسے بھی اپنی طرح سست اور غافل بنا دیتا ہے؟ اگر ان بدیوں کے مرتکب اثر پیدا کر لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ کارکنوں کے دلوں میں سوز اور گداز پیدا ہو جائے اور وہ اخلاق کی اہمیت کو سمجھ جائیں تو بچوں میں سچ بولنے کی عادت پیدا نہ کر سکیں ، ان میں محنت کی عادت پیدا نہ کرسکیں اور کیوں بچے ان اخلاق فاضلہ سے دوری کو ایک عذاب نہ سمجھنے لگیں؟ اگر متواتر طالب علموں کو بتایا جائے کہ جھوٹ بولنا ایک عذاب ہے اور ایسا ہی ہے جیسے طاعون اور ہیضہ میں مبتلاء ہو جانا، اگر متواتر طالب علموں کو یہ بتایا جائے کہ ستی اور غفلت ایک عذاب ہے اور ایسا 74